صحیح مسلم حدیث ۴۳۱۹ - نیک بندے کے اجر کی تائید

نیک غلام کے دوہرے اجر کی حدیث: روایت کی تائید

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۱۹

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ جَمِيعًا ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۳۱۹ کا خلاصہ

یہ حدیث سابقہ مضمون کو دوسری سندوں سے بیان کرتی ہے۔ اصل بات یہی ہے کہ اگر بندہ اپنے مالک کے لیے خیر خواہ ہو اور اللہ کی عبادت بھی اچھے طریقے سے کرے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔ یہاں حدیث کا پیغام مختصر مگر بہت اہم ہے۔ ایک طرف دینی ذمہ داری ہے، یعنی اللہ کی عبادت۔ دوسری طرف دنیاوی ذمہ داری ہے، یعنی اپنے مالک یا ذمہ دار کے ساتھ خیر خواہی۔ جب دونوں جمع ہوں تو نیکی کا اجر بڑھتا ہے۔ نیک غلام کا دوہرا اجر والی حدیث ہر اس شخص کے لیے بھی سبق رکھتی ہے جو کسی کام یا خدمت میں لگا ہو۔ اسے چاہیے کہ کام میں خیانت نہ کرے، دل سے خیر خواہی رکھے، اور اللہ کی بندگی کو بھی اہم سمجھے۔ اس روایت کا فائدہ یہ ہے کہ سابقہ حدیث کا مضمون مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کی عبادت اور کام کی خیر خواہی دونوں اہم ہیں۔
  • نیک غلام کے دوہرے اجر کا مضمون دوسری سندوں سے بھی آیا ہے۔
  • امانت داری انسان کے عمل کو بہتر بناتی ہے۔
  • دنیاوی ذمہ داری کے ساتھ دینی ذمہ داری نہیں بھولنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں