صحیح مسلم حدیث ۴۳۱۸ - خیر خواہ غلام کا دوہرا اجر

نیک غلام کا دوہرا اجر: خیر خواہی اور عبادت کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۱۸

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللَّهِ ، فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ " ،

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب خیر خواہی کرے اپنے مالک کی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی اچھی طرح کرے تو اس کا دوہرا ثواب ہو گا۔“ (یہ نسبت آزاد شخص کے)۔

صحیح مسلم حدیث ۴۳۱۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں خادم یا غلام کے لیے ایک خوشخبری بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ بندہ جب اپنے مالک کی خیر خواہی کرے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی اچھے طریقے سے کرے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔ یہاں دو باتیں ساتھ آئی ہیں: بندوں کے معاملے میں خیر خواہی، اور اللہ کے حق میں عبادت۔ یہ حدیث نیک غلام کا دوہرا اجر، امانت داری، اور عبادت کے موضوع پر ہے۔ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ غلامی کو مقصد بنایا گیا ہے، بلکہ حدیث اس شخص کی حالت میں نیکی کا اجر بتا رہی ہے جو اس حالت میں ہو۔ اگر وہ اپنے کام میں خیر خواہ رہے اور اللہ کی عبادت درست رکھے تو اس کے عمل کی قدر کی گئی ہے۔ یہ ہر کام کرنے والے کو بھی سکھاتی ہے کہ ذمہ داری اور عبادت دونوں کو ساتھ رکھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اپنی ذمہ داری میں خیر خواہی اجر کا سبب ہے۔
  • اللہ کی عبادت کو کام کی مصروفیت میں نہیں چھوڑنا چاہیے۔
  • نیک غلام کے لیے دوہرے اجر کی خوشخبری بیان ہوئی ہے۔
  • امانت داری اور عبادت دونوں ساتھ چلنی چاہییں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں