صحیح مسلم حدیث ۴۳۱۷ - کھانا بنانے والے خادم کو بھی کھلاؤ

خادم کو ساتھ بٹھا کر کھلانے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۱۷

وحَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَنَعَ لِأَحَدِكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ ثُمَّ جَاءَهُ بِهِ وَقَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ ، فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ ، فَلْيَأْكُلْ ، فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا قَلِيلًا فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ مِنْهُ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ " ، قَالَ دَاوُدُ : يَعْنِي لُقْمَةً أَوْ لُقْمَتَيْنِ .

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سے کسی کے لیے اس کا خادم کھانا تیار کرے پھر لے کر آئے اور وہ اٹھا چکا ہو کھانا پکانے کی گرمی اور دھواں تو اس کو اپنے ساتھ بٹھا لے اور کھلائے اور اگر کھانا تھوڑا ہو تو لقمہ لقمہ اس کے لئے رکھ چھوڑے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۳۱۷ کا خلاصہ

یہ حدیث خادم کے ساتھ محبت اور انصاف کا بہت خوبصورت سبق دیتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب کسی کا خادم کھانا تیار کرے، پھر اسے لے کر آئے، اور اس نے پکانے کی گرمی اور دھواں برداشت کیا ہو، تو اسے اپنے ساتھ بٹھا کر کھلائے۔ اگر کھانا کم ہو تو اس کے ہاتھ میں ایک دو لقمے رکھ دے۔ اس حدیث میں خادم کے حقوق بہت عملی انداز میں بیان ہوئے ہیں۔ جو شخص کھانا پکاتا ہے، وہ محنت بھی کرتا ہے، گرمی بھی سہتا ہے، دھواں بھی برداشت کرتا ہے۔ اس لیے اسے نظر انداز کر دینا مناسب نہیں۔ حدیث کا مقصد یہ ہے کہ خادم کی محنت کو محسوس کیا جائے، اس کے دل کا خیال رکھا جائے، اور کھانے میں بھی اسے حصہ دیا جائے۔ یہ ملازم کے ساتھ حسن سلوک کی آسان مگر بہت مؤثر تعلیم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خادم کی محنت کو محسوس کرنا چاہیے۔
  • کھانا پکانے والے خادم کو ساتھ کھلانا اچھا عمل ہے۔
  • کھانا کم ہو تو بھی کچھ لقمے دینا چاہیے۔
  • خادم کے دل کا خیال رکھنا حسن سلوک کا حصہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں