صحیح مسلم حدیث ۴۳۱۶ - غلام کا کھانا، کپڑا اور کام
غلام کو کھانا کپڑا دو: خادم کے بنیادی حقوق کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۳۱۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۱۶
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ : أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجّ حَدَّثَهُ ، عَنْ الْعَجْلَانِ مَوْلَى فَاطِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ وَلَا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا يُطِيقُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”غلام کو کھانا اور کپڑا دو اور اتنا ہی کام لو جس کی اسے طاقت ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۳۱۶ کا خلاصہ
یہ حدیث مختصر ہے مگر خادم کے حقوق کو بہت صاف کر دیتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مملوک کے لیے اس کا کھانا اور کپڑا ہے، اور اس سے کام بھی صرف اتنا لیا جائے جتنا وہ کر سکے۔ اس میں تین بنیادی باتیں آ گئیں: کھانا، لباس اور طاقت کے مطابق کام۔ یہ حدیث غلام کے حقوق، ملازم کے حقوق، اور خادم کے ساتھ نرمی کے بارے میں بہت زیادہ سرچ کی جانے والی حدیثوں میں سے ہے۔ اس کا انداز عام اور روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ جو شخص کسی کے کام کا ذمہ دار ہے، اسے صرف کام لینے والا نہیں بننا چاہیے، بلکہ اس کی ضروریات کا خیال بھی رکھنا چاہیے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ کام کا تعلق انسان کی طاقت سے ہو، اور ذمہ داری کے ساتھ اس کے کھانے اور کپڑے کا حق بھی ادا کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خادم کے کھانے کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
- خادم کے لباس کی ذمہ داری بھی بیان ہوئی ہے۔
- طاقت سے زیادہ کام نہیں لینا چاہیے۔
- کام لینے کے ساتھ بنیادی ضرورتوں کا حق بھی ادا کرنا چاہیے۔
