صحیح مسلم حدیث ۴۳۱۵ - خادم کو بھائی سمجھنے کی تعلیم

تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں: خادم کے ساتھ حسن سلوک

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۱۵

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ وَعَلَى غُلَامِهِ مِثْلُهَا فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " فَذَكَرَ أَنَّهُ سَابَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَيَّرَهُ بِأُمِّهِ ، قَالَ : فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ إِخْوَانُكُمْ وَخَوَلُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدَيْهِ ، فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ عَلَيْهِ " .

معرور بن سوید روایت:

میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ ایک جوڑا پہنے تھے اور ان کا غلام بھی ویسا ہی جوڑا پہنے تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص سے گالی گلوچ ہوئی میں نے اس کو ماں کی گالی دی (نووی رحمہ اللہ نے کہا: وہ شخص سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے) اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تجھ میں جاہلیت ہے، وہ تمہارے بھائی ہیں، تمہارے غلام ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارے ہاتھوں کے نیچے کر دیا پھر جس کا بھائی اس کے ہاتھ کے تلے ہو وہ اس کو کھلائے جو خود کھاتا ہے اور پہنائے جو خود پہنتا ہے اور مت کہو ان کو وہ کام کرنے کو جس میں عاجز ہو جائیں اگر کہو تو خود بھی ان کی مدد کرو۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۳۱۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابوذر رضی اللہ عنہ کا عمل بھی نظر آتا ہے اور اس کے پیچھے نبی صلى الله عليه وسلم کی تعلیم بھی۔ معرور بن سوید نے دیکھا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے ایک جوڑا پہن رکھا تھا اور ان کے غلام نے بھی ویسا ہی جوڑا پہن رکھا تھا۔ پوچھنے پر ابوذر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں انہوں نے ایک شخص کو اس کی ماں کی وجہ سے برا کہا تھا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم میں جاہلیت ہے، پھر فرمایا کہ تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں۔ جس کے ہاتھ کے نیچے اس کا بھائی ہو، اسے وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے، وہی پہنائے جو خود پہنتا ہے، اور ایسا کام نہ کہے جس سے وہ عاجز ہو جائے۔ اگر کام دے تو مدد کرے۔ یہ حدیث اسلام میں ملازم کے حقوق اور برابری کا بہت عملی نمونہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خادم کو بھائی سمجھ کر عزت دی جائے۔
  • کھانے اور لباس میں مناسب خیال رکھا جائے۔
  • کسی کو ماں یا نسب کی وجہ سے برا کہنا جاہلیت کا انداز ہے۔
  • مشکل کام میں خادم کی مدد کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں