صحیح مسلم حدیث ۴۳۳ - ما کذب الفؤاد اور جبریل علیہ السلام
ما کذب الفؤاد کی تفسیر: جبریل علیہ السلام کا دیدار
صحیح مسلم : ۴۳۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۳
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى سورة النجم آية 11 ، قَالَ : " رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
جو حق تعالیٰ نے فرمایا: «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى» ”یعنی جھوٹ نہ دیکھا۔ دل نے جو دیکھا۔“ مراد اس سے جبریل علیہ السلام کا دیکھنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا ان کو، ان کے چھ سو (۶۰۰) پنکھ تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۳۳ کا خلاصہ
یہ حدیث سورہ نجم کی آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى» کی تفسیر سے متعلق ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اس سے مراد جبریل علیہ السلام کا دیکھنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا، اور ان کے چھ سو پر تھے۔ اس روایت میں بات صاف اور مختصر ہے: آیت میں جس دیکھنے کا ذکر آیا، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق وہ جبریل علیہ السلام کے دیکھنے کے بارے میں ہے۔ یہ جبریل علیہ السلام کے چھ سو پر والی حدیث کے سلسلے کی ایک اہم روایت ہے۔ اس میں نہ کوئی لمبی تفصیل ہے، نہ کوئی الگ واقعہ بیان ہوا؛ صرف آیت کی تفسیر اور جبریل علیہ السلام کے چھ سو پروں کا ذکر ہے۔ اسی وجہ سے اسے سورہ نجم کی تفسیر اور معراج سے متعلق روایات کے ضمن میں پڑھا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آیت «ما کذب الفؤاد» کی تفسیر میں جبریل علیہ السلام کا ذکر آیا ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو چھ سو پروں کے ساتھ دیکھا۔
- صحابی کی تفسیر قرآن سمجھنے میں اہم مدد دیتی ہے۔
- حدیث کے مختصر متن میں اپنی طرف سے اضافی تفصیل نہیں بڑھانی چاہیے۔
