صحیح مسلم حدیث ۴۳۴ - رب کی بڑی نشانی اور جبریل علیہ السلام
رب کی بڑی نشانی: جبریل علیہ السلام اصل صورت میں
صحیح مسلم : ۴۳۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۴
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، سَمِعَ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى سورة النجم آية 18 ، قَالَ : " رَأَى جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
یہ جو حق تعالیٰ نے فرمایا: «لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى» ”بیشک دیکھیں اپنے رب کی بڑی نشانیاں۔“ مراد اس سے یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں، چھ سو (۶۰۰) بازو تھے ان کے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۳۴ کا خلاصہ
یہ حدیث آیت «لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى» کی تفسیر کے بارے میں ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا، اور ان کے چھ سو بازو تھے۔ یہ جبریل علیہ السلام کی اصل صورت والی حدیث ہے۔ اس میں ایک بڑی نشانی کا ذکر ہے، مگر متن نے اس نشانی کی وضاحت جبریل علیہ السلام کے دیدار سے کی ہے۔ اس لیے اس روایت کو سورہ نجم کی تفسیر، جبریل کے چھ سو پر، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے کے باب میں پڑھا جاتا ہے۔ حدیث ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ قرآن کی آیت کا مطلب صحابی کی روایت سے سمجھتے وقت الفاظ کو امانت کے ساتھ نقل کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آیت میں بیان کردہ بڑی نشانی کی تفسیر جبریل علیہ السلام کے دیدار سے کی گئی۔
- جبریل علیہ السلام کو اصل صورت میں چھ سو بازوؤں کے ساتھ دیکھا گیا۔
- قرآن کی تفسیر میں صحابی کا بیان قابل توجہ ہے۔
- حدیث میں جو بات آئی ہے اسی پر بات کو محدود رکھنا بہتر ہے۔
