صحیح مسلم حدیث ۴۳۵ - ولقد رآه نزلة أخرى کی تفسیر
ولقد رآه نزلة أخرى: جبریل علیہ السلام کے دیدار کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۳۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۵
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13 ، قَالَ : " رَأَى جِبْرِيلَ " .
ابوہریرہ روایت:
اس تفسیر میں «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى» یعنی دیکھا ان کو دوسرے اتار میں کہ دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو۔
صحیح مسلم حدیث ۴۳۵ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت مختصر ہے، مگر سورہ نجم کی تفسیر میں اہم ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے آیت «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى» کے بارے میں روایت ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا۔ اس حدیث میں نہ چھ سو پروں کی تفصیل آئی ہے، نہ کسی اور منظر کی لمبی شرح؛ یہاں خاص طور پر آیت کے ایک حصے کی تفسیر بیان ہوئی ہے۔ اس لیے جب لوگ ولقد رآه نزلة أخرى کی تفسیر، جبریل علیہ السلام کو دیکھنے کی حدیث، یا سورہ نجم میں دیکھنے کے معنی تلاش کرتے ہیں تو یہ روایت اصل بات کو مختصر انداز میں بتاتی ہے۔ متن کے مطابق مراد جبریل علیہ السلام ہیں، اس سے آگے کوئی دعویٰ اس روایت سے ثابت نہیں کیا جاتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آیت «ولقد رآه نزلة أخرى» کی تفسیر میں جبریل علیہ السلام کا ذکر آیا ہے۔
- حدیث مختصر ہے، اس لیے اس کے معنی بھی مختصر رکھنے چاہییں۔
- قرآنی الفاظ کی سمجھ میں روایت کا سہارا لیا جاتا ہے۔
- متن کے مطابق یہاں دیکھنے سے مراد جبریل علیہ السلام کا دیکھنا ہے۔
