صحیح مسلم حدیث ۴۳۶۱ - قتل کے بدلے قصاص کا فیصلہ

قصاص کی حدیث: قتل کے بدلے انصاف کا نبوی فیصلہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۶۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ ، قَالَ : فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ ، فَقَالَ لَهَا : أَقَتَلَكِ فُلَانٌ ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا ، ثُمَّ قَالَ لَهَا : الثَّانِيَةَ ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا ، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ ، فَقَالَتْ : نَعَمْ وَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا ، فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ " ،

انس بن مالک روایت:

ایک یہودی نے ایک لڑکی کو مارا، چند چاندی کے ٹکڑوں کے لیے، تو پتھر سے اس کو مارا۔ وہ لائی گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس، اس میں کچھ جان باقی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ”تجھ کو فلان نے مارا ہے؟“ اس نے اشارہ کیا سر سے نہیں، پھر فرمایا: ”فلانے نے مارا ہے؟“ اس نے اشارہ کیا سر سے نہیں، پھر تیسری بار پوچھا تو اس نے کہا: ہاں اور اشارہ کیا پنے سر سے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کو بلوایا، اس نے اقرار کیا) تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قتل کیا، دو پتھروں سے کچل کر۔

صحیح مسلم حدیث ۴۳۶۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع قصاص اور قتل کے مقدمے میں انصاف ہے۔ روایت میں بتایا گیا ہے کہ ایک یہودی نے چند چاندی کے ٹکڑوں کے لیے ایک لڑکی کو پتھر سے مارا۔ جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اس میں کچھ جان باقی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی میں فیصلہ نہیں فرمایا بلکہ اس سے پوچھا کہ کیا فلاں نے مارا ہے؟ اس نے سر کے اشارے سے انکار کیا۔ پھر دوسری بار بھی انکار کیا۔ تیسری بار جب نام آیا تو اس نے ہاں کہا اور سر سے اشارہ کیا۔ پھر مجرم کو بلایا گیا، اس نے اقرار کیا، تب قصاص کا حکم دیا گیا۔ یہ حدیث قتال، قتل کے بدلے قصاص، اقرارِ جرم اور مظلوم کی بات کو سننے کی اہمیت کو سادہ انداز میں سمجھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قتل جیسے بڑے معاملے میں فیصلہ تحقیق کے بعد کیا گیا۔
  • زخمی مظلوم کے اشارے کو مقدمے میں اہم سمجھا گیا۔
  • مجرم کے اقرار کے بعد قصاص نافذ کیا گیا۔
  • مال کے لالچ میں جان لینا بہت سنگین جرم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں