صحیح مسلم حدیث ۴۳۶۹ - اونٹ کی طرح چبانے سے منع

اونٹ کی طرح چبانے کی مثال اور دفاع کا مسئلہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۶۹

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى " أَنَّ أَجِيرًا لِيَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ عَضَّ رَجُلٌ ذِرَاعَهُ ، فَجَذَبَهَا فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ ، فَرُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَبْطَلَهَا وَقَالَ : أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ " .

صفوان بن یعلیٰ روایت:

یعلیٰ بن منیہ کے ایک نوکر نے (جھگڑا کیا ایک شخص سے) دوسرے نے اس کا ہاتھ دانت سے کاٹا اس نے اپنا ہاتھ گھسیٹا تو دوسرے کے دانت گر پڑے پھر یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو لغو کر دیا اور فرمایا: ”تو چاہتا تھا کہ اس کا ہاتھ چبا ڈالے جیسے اونٹ چبا لیتا ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۳۶۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یعلیٰ بن منیہ کے ایک نوکر کے ساتھ جھگڑا ہوا۔ ایک شخص نے اس کا ہاتھ دانت سے کاٹا۔ جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو کاٹنے والے کے دانت گر گئے۔ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعوے کو لغو قرار دیا اور فرمایا کہ کیا تو اس کا ہاتھ اس طرح چبا ڈالنا چاہتا تھا جیسے اونٹ چباتا ہے؟ اس حدیث میں ہاتھ کاٹنے والے کے دانت، دیت، اور دفاع کا مسئلہ بہت صاف انداز میں آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس نے پہلے حملہ کیا اور دوسرے کو کاٹا، وہ اپنے نقصان کا دعویٰ لے کر آیا تو اس کا دعویٰ قبول نہیں کیا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہاتھ کاٹنے والے کے دعوے کو قبول نہیں کیا گیا۔
  • اپنا ہاتھ کھینچنا دفاع کی صورت میں آیا۔
  • اونٹ کی مثال دے کر کاٹنے کے عمل کو برا بتایا گیا۔
  • دیت کا فیصلہ واقعے کی اصل صورت دیکھ کر ہوا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں