صحیح مسلم حدیث ۴۴۲۴ - اقرارِ زنا
ماعز بن مالک حدیث: اقرارِ زنا اور احتیاط
صحیح مسلم : ۴۴۲۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۲۴
وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ حِينَ جِيءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ قَصِيرٌ أَعْضَلُ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ ، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ أَنَّهُ زَنَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلَعَلَّكَ ؟ ، قَالَ : لَا ، وَاللَّهِ إِنَّهُ قَدْ زَنَى الْأَخِرُ ، قَالَ : فَرَجَمَهُ ، ثُمَّ خَطَبَ ، فَقَالَ : أَلَا كُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، خَلَفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ أَحَدُهُمُ الْكُثْبَةَ ، أَمَا وَاللَّهِ إِنْ يُمْكِنِّي مِنْ أَحَدِهِمْ لَأُنَكِّلَنَّهُ عَنْهُ " .
جابر بن سمرہ روایت:
میں نے ماعز بن مالک کو دیکھا، جب وہ لائے گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ ایک شخص تھے ننگے ان پر چادر نہ تھی یعنی اس وقت ان کا بدن ننگا تھا انہوں نے چار بار زنا کا اقرار کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شاید تو نے (بوسہ لیا ہو گا یا مساس کیا ہو گا؟)“ ماعز بولا: نہیں، قسم اللہ کی اس نالائق نے زنا کیا۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو رجم کیا پھر فرمایا: ”جب ہم نکلتے ہیں جہاد کے لیے اللہ تعالیٰ کی راہ میں تو کوئی پیچھے رہ جاتا ہے اور آواز کرتا ہے بکری کی سی آواز (جیسے بکری جماع کے وقت چلاتی ہے) اور دیتا ہے کسی کو تھوڑا دودھ (یعنی جماع کرتا ہے، دودھ سے مراد منی ہے) قسم اللہ کی! اگر اللہ مجھ کو قدرت دے گا ایسے کسی پر تو میں اس کو سزا دوں گا۔“ (تا کہ دوسروں کو عبرت ہو)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۴۲۴ کا خلاصہ
یہ حدیث ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے واقعے کو بیان کرتی ہے۔ متن کے مطابق انہیں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس لایا گیا، انہوں نے اپنے اوپر چار بار زنا کا اقرار کیا، اور آپ صلى الله عليه وسلم نے پہلے سوال کر کے امکان واضح کیا کہ شاید معاملہ وہ نہ ہو جو وہ کہہ رہے ہیں۔ جب انہوں نے صاف انکار کیا اور اپنے فعل کا اقرار کیا تو رجم کا حکم ہوا۔ اس روایت میں رجم کی حدیث اور زنا کی سزا حدیث کا پہلو آتا ہے، مگر ساتھ ہی نبی صلى الله عليه وسلم کی احتیاط بھی صاف دکھائی دیتی ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فوراً فیصلہ نہیں کیا بلکہ بات کو واضح کیا۔ بعد کے خطبے میں آپ صلى الله عليه وسلم نے اس برائی کی سخت مذمت کی، خاص طور پر اس حالت میں جب مسلمان اللہ کے راستے میں نکلتے ہیں اور کوئی پیچھے رہ کر خیانت کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سنگین معاملے میں فیصلہ اقرار کے بعد بھی احتیاط سے کیا گیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے پہلے شبہ دور کرنے والا سوال کیا۔
- متن میں زنا کو ایک سخت اخلاقی جرم کے طور پر بیان کیا گیا۔
- خطبے میں دوسروں کے لیے نصیحت اور تنبیہ کا پہلو رکھا گیا۔
