صحیح مسلم حدیث ۴۴۲۵ - حدِ زنا

حدِ زنا کی حدیث: اقرار، توقف اور تنبیہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۲۵

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَصِيرٍ أَشْعَثَ ذِي عَضَلَاتٍ عَلَيْهِ إِزَارٌ وَقَدْ زَنَى ، فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ ، فَرُجِمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، تَخَلَّفَ أَحَدُكُمْ يَنِبُّ نَبِيبَ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ ، إِنَّ اللَّهَ لَا يُمْكِنِّي مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا جَعَلْتُهُ نَكَالًا أَوْ نَكَّلْتُهُ " ، قَالَ : فَحَدَّثْتُهُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، فَقَالَ : إِنَّهُ رَدَّهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ،

جابر بن سمرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹھگنا شخص گھٹیل مضبوط ازار باندھے ہوئے آیا اس نے زنا کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار اس کی بات کو ٹالا پھر حکم کیا وہ سنگسار کیا گیا بعد اس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب ہم نکلتے ہیں اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے تو کوئی نہ کوئی تم میں سے پیچھے رہ جاتا ہے اور بکری کی طرح آواز کرتا ہے کسی عورت کو تھوڑا دودھ دیتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ جب میرے قابو میں ایسے شخص کو دے گا میں اس کو ایسی سزا دوں گا جو نصیحت ہو دوسروں کے لیے۔“راوی نے کہا: میں نے یہ حدیث سعید بن جبیر سے بیان کی، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار بار اس کی بات کو ٹالا۔

صحیح مسلم حدیث ۴۴۲۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا جس نے زنا کیا تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس کی بات کو پہلے ٹالا، روایت میں دو بار کا ذکر ہے، اور سعید بن جبیر کے بیان میں چار بار لوٹانے کا ذکر بھی آیا۔ پھر جب معاملہ واضح ہوا تو رجم کا حکم دیا گیا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع حدِ زنا اور اقرارِ زنا ہے۔ عام فہم انداز میں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے ایسے سنگین معاملے میں جلد بازی نہیں کی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے بعد میں خطبہ دیا اور اس عمل کی سخت مذمت فرمائی، خاص طور پر اس شخص کی جو جہاد کے لیے نکلنے والوں کے پیچھے رہ کر غلط کام کرے۔ رجم کی حدیث، زنا کی سزا حدیث، اور ماعز بن مالک واقعہ اسی روایت سے متعلق اہم سرچ الفاظ ہیں، مگر وضاحت صرف اسی متن تک رکھی جانی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اقرار کرنے والے کو فوراً قبول نہیں کیا بلکہ بات ٹالی۔
  • حد کا معاملہ واضح ہونے کے بعد نافذ کیا گیا۔
  • خطبے میں زنا اور خیانت پر سخت تنبیہ کی گئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں