صحیح مسلم حدیث ۴۴۲۷ - اقرار کی تحقیق

اقرار کی تحقیق: ماعز بن مالک حدیث کا اہم پہلو

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۲۷

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ : " أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ ؟ ، قَالَ : وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي ؟ ، قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّكَ وَقَعْتَ بِجَارِيَةِ آلِ فُلَانٍ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک سے پوچھا: ” جو خبر میں نے تیری سنی ہے وہ سچ ہے؟“ ماعز نے کہا: وہ کیا خبر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تو نے جماع کیا فلاں لوگوں کی لونڈی سے۔“ ماعز نے کہا: ہاں سچ ہے پھر اس نے چار بار اقرار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا پتھروں سے مارا گیا۔

صحیح مسلم حدیث ۴۴۲۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے پہلے پوچھا کہ جو بات میرے پاس پہنچی ہے کیا وہ سچ ہے؟ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے واضح کیا کہ فلاں خاندان کی لونڈی کے بارے میں خبر پہنچی ہے۔ ماعز نے جواب دیا کہ ہاں، پھر اس نے چار بار اقرار کیا۔ اس کے بعد رجم کا حکم دیا گیا۔ اس روایت کا مرکزی موضوع اقرار کی تحقیق ہے۔ اس میں رجم کی حدیث یا زنا کی سزا حدیث کا ذکر آتا ہے، مگر اصل سبق یہ ہے کہ خبر سن کر فوراً فیصلہ نہیں کیا گیا؛ پہلے صاحبِ معاملہ سے براہ راست پوچھا گیا۔ عام فہم انداز میں یہ حدیث بتاتی ہے کہ سنگین بات میں واضح اقرار اور تحقیق دونوں کو اہمیت دی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سنی ہوئی خبر پر پہلے براہ راست سوال کیا گیا۔
  • چار بار اقرار کے بعد حکم دیا گیا۔
  • حد کے معاملے میں وضاحت اور تحقیق کا پہلو نمایاں ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں