حدیث ۴۴۲۸

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۲۸

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ " أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَصَبْتُ فَاحِشَةً فَأَقِمْهُ عَلَيَّ ، فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا ، قَالَ : ثُمَّ سَأَلَ قَوْمَهُ ، فَقَالُوا : مَا نَعْلَمُ بِهِ بَأْسًا إِلَّا أَنَّهُ أَصَابَ شَيْئًا يَرَى أَنَّهُ لَا يُخْرِجُهُ مِنْهُ إِلَّا أَنْ يُقَامَ فِيهِ الْحَدُّ ، قَالَ : فَرَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا أَنْ نَرْجُمَهُ ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ، قَالَ : فَمَا أَوْثَقْنَاهُ وَلَا حَفَرْنَا لَهُ ، قَالَ : فَرَمَيْنَاهُ بِالْعَظْمِ وَالْمَدَرِ وَالْخَزَفِ ، قَالَ : فَاشْتَدَّ فَاشْتَددْنَا خَلْفَهُ حَتَّى أَتَى عُرْضَ الْحَرَّةِ ، فَانْتَصَبَ لَنَا ، فَرَمَيْنَاهُ بِجَلَامِيدِ الْحَرَّةِ يَعْنِي الْحِجَارَةَ حَتَّى سَكَتَ ، قَالَ : ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا مِنَ الْعَشِيِّ ، فَقَالَ : أَوَ كُلَّمَا انْطَلَقْنَا غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، تَخَلَّفَ رَجُلٌ فِي عِيَالِنَا لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ عَلَيَّ أَنْ لَا أُوتَى بِرَجُلٍ فَعَلَ ذَلِكَ ، إِلَّا نَكَّلْتُ بِهِ " ، قَالَ : فَمَا اسْتَغْفَرَ لَهُ وَلَا سَبَّهُ ،

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص قبیلہ اسلم کا جس کا نام ماعز بن مالک تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھ سے گناہ ہوا ہے تو سزا دیجئیے مجھ کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی بار اس کی بات کو ٹال دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قوم سے پوچھا اس کا حال (کہیں مجنوں تو نہیں ہے) انہوں نے کہا: اس کو کوئی بیماری نہیں، مگر اس سے ایسا کام ہو گیا ہے وہ سمجھتا ہے اس کا کوئی علاج نہیں سوا حد قائم کرنے کے۔ پھر وہ لوٹ کر آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا ہم کو اس کے رجم کرنے کا۔ ہم اس کو لے کر چلے بقیع الغرقد (مدینہ کا قبرستان ہے۔ یا اللہ! میرا مدفن بقیع کو کر دے) کی طرف، نہ ہم نے اس کو باندھا، نہ اس کے لیے گڑھا کھودا۔ ہم نے اس کو مارا ہڈیوں اور ڈھیلوں اور ٹھیکروں سے وہ دوڑ بھاگا۔ ہم بھی اس کے پیچھے بھاگے۔ یہاں تک کہ حرہ میں آیا۔ وہاں نمودار ہوا تو ہم نے حرہ کے پتھروں سے مارا، ٹھنڈا ہو گیا۔ پھر شام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھنے کو کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”جب ہم چلتے ہیں اللہ کی راہ میں جہاد کو کوئی نہ کوئی ہمارے پیچھے رہ کر بکری کی آواز کرتا ہے۔ مجھ پر ضروری ہے جو کوئی شخص ایسا کرے میرے پاس لایا جائے تو میں اس کو سزا دوں۔“ پھر نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اس کے لیے، نہ اس کو برا کہا (دعا اس لیے نہیں کی کہ اور کوئی اس طمع سے یہ کام نہ کر بیٹھے اور برا اس لیے نہیں کہا کہ اس کے گناہ کا تدارک ہو گیا اور اس کی توبہ قبول ہو گئی)۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں