صحیح مسلم حدیث ۴۴۲۹ - خطبۂ تنبیہ

خطبۂ تنبیہ: زنا کی برائی پر واضح نصیحت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۲۹

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَاهُ ، وَقَالَ : فِي الْحَدِيثِ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَشِيِّ : فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَال : " أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ إِذَا غَزَوْنَا يَتَخَلَّفُ أَحَدُهُمْ عَنَّا ، لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ " وَلَمْ يَقُلْ فِي عِيَالِنَا ،

‏‏‏‏ وہی جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شام کو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی حمد و تعریف کی، پھر فرمایا: ”بعد اس کے کیا حال ہے لوگوں کا جب ہم جہاد کو جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے اور ایسی آواز نکالتا ہے جیسے بکری۔“ اخیر تک۔

صحیح مسلم حدیث ۴۴۲۹ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلے واقعے کے معنی کو بیان کرتی ہے اور خاص طور پر شام کے خطبے کا پہلو سامنے لاتی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے خطبہ کے آغاز میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جب ہم جہاد کے لیے نکلتے ہیں تو ان میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے اور بکری جیسی آواز نکالتا ہے۔ روایت میں “عیالنا” کا لفظ نہیں آیا، اس لیے وضاحت اسی حد تک رکھی گئی ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع خطبۂ تنبیہ اور اخلاقی حفاظت ہے۔ رجم کی حدیث، زنا کی سزا حدیث، اور جہاد کے پیچھے خیانت جیسے سرچ الفاظ اس مضمون سے جڑتے ہیں۔ عام قاری کے لیے بات صاف ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اس گناہ کو معمولی نہیں سمجھا اور اسے لوگوں کے سامنے نصیحت کے طور پر بیان کیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خطبے میں پہلے اللہ کی حمد و ثنا کی گئی۔
  • برائی پر عام انداز میں تنبیہ کی گئی، نام لے کر تذلیل نہیں کی گئی۔
  • روایت میں الفاظ کے فرق کو محفوظ رکھا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں