صحیح مسلم حدیث ۴۴۴۸ - لونڈی کے زنا پر حد کی تائیدی روایت
لونڈی کے زنا پر حد: اسی مضمون کی ایک اور روایت
صحیح مسلم : ۴۴۴۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۴۸
وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكًا ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْأَمَةِ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ ابْنِ شِهَابٍ وَالضَّفِيرُ الْحَبْلُ ،
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۴۴۸ کا خلاصہ
یہ حدیث بتاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لونڈی کے بارے میں وہی سوال کیا گیا، اور جواب پچھلی روایت جیسا تھا۔ اس سند میں سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما کا ذکر ہے۔ متن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس روایت میں ابن شہاب کا یہ قول ذکر نہیں کیا گیا کہ “ضفیر” سے مراد رسی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روایتیں نقل کرتے وقت الفاظ کے اضافے یا کمی کو بھی محفوظ کیا جاتا تھا۔ اصل موضوع لونڈی کی حد ہے، مگر اس روایت کا خاص پہلو یہ ہے کہ یہ پچھلے مضمون کی تائید کرتی ہے اور ساتھ بتاتی ہے کہ ہر سند میں تمام توضیحی الفاظ لازمًا نہیں آتے۔ اس لیے حدیث کی وضاحت میں وہی بات کہنی چاہیے جو متن میں موجود ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کی تائید کرتی ہے۔
- ہر روایت میں توضیحی لفظ یا تشریح یکساں نہیں آتی۔
- حدیث سمجھتے ہوئے نقل شدہ الفاظ کا فرق اہم ہوتا ہے۔
