صحیح مسلم حدیث ۴۴۴۹ - تیسری یا چوتھی بار بیچنے کا ذکر
لونڈی کی حد: تیسری یا چوتھی بار کا لفظی فرق
صحیح مسلم : ۴۴۴۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۴۹
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ وَالشَّكُّ فِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا فِي بَيْعِهَا فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ .
اوپر والی حدیث اس سند سے بھی روایت کی گئی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۴۴۹ کا خلاصہ
اس روایت میں اوپر والی حدیث کو ایک اور سند سے بیان کیا گیا ہے۔ متن میں صاف بتایا گیا ہے کہ دونوں روایتوں میں یہ شک موجود ہے کہ لونڈی کو بیچنے کا حکم تیسری بار کے بعد تھا یا چوتھی بار کے بعد۔ یہی اس حدیث کا اہم نکتہ ہے۔ اصل موضوع لونڈی کی حد اور زنا کے تکرار پر حکم ہے، مگر اس خاص روایت میں علمی امانت بھی بہت نمایاں ہے۔ راوی نے یہ نہیں کیا کہ شک کو چھپا دے یا اپنی طرف سے ایک بات قطعی بنا دے؛ بلکہ جو شک روایت میں تھا، اسے اسی طرح نقل کر دیا۔ آسان اردو میں کہا جائے تو یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دینی متن بیان کرتے وقت احتیاط لازم ہے۔ جو بات یقینی ہو اسے یقینی کہا جائے، اور جہاں لفظی فرق ہو وہاں اس فرق کو مان کر بات کی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت میں موجود شک کو چھپانا نہیں چاہیے۔
- لونڈی کے زنا پر حد کا مضمون یہاں بھی نقل ہوا ہے۔
- دینی بات میں اپنی طرف سے قطعی فیصلہ شامل کرنے سے بچنا چاہیے۔
