صحیح مسلم حدیث ۴۴۶۰ - دس کوڑوں سے زیادہ سزا کا اصول
تعزیر کی حدیث: دس کوڑوں سے زیادہ کب نہیں؟
صحیح مسلم : ۴۴۶۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۶۰
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ إِذْ جَاءَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ ، فَحَدَّثَهُ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا سُلَيْمَانُ ، فَقَالَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يُجْلَدُ أَحَدٌ فَوْقَ عَشَرَةِ أَسْوَاطٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ " .
ابوبردہ روایت:
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ” کوئی نہ مارا جائے دس کوڑوں سے زیادہ مگر کسی حد میں اللہ کی حدوں میں سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۴۶۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابو بردہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کسی کو دس کوڑوں سے زیادہ نہ مارا جائے، مگر اللہ کی حدوں میں سے کسی حد میں۔ اس روایت کا اصل موضوع تعزیر اور حدود کا فرق ہے۔ متن میں دو باتیں صاف ہیں: پہلی یہ کہ عام سزا یا تادیب میں دس کوڑوں سے اوپر جانے کی ممانعت بیان ہوئی، دوسری یہ کہ اللہ کی مقرر کردہ حد اس سے مستثنیٰ ہے۔ اس وضاحت میں ہمیں متن سے آگے بڑھ کر مختلف فقہی اختلافات تفصیل سے شامل نہیں کرنے چاہییں، کیونکہ حدیث کا لفظی پیغام مختصر اور واضح ہے۔ عام فہم انداز میں یہ حدیث بتاتی ہے کہ سزا کے معاملے میں بھی حد بندی ہے، اور انسان کو اپنی طرف سے سختی بڑھانے کی اجازت نہیں، سوائے اس کے کہ معاملہ اللہ کی مقرر حد کا ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عام تادیبی سزا میں دس کوڑوں سے زیادہ نہ مارنے کا اصول بیان ہوا ہے۔
- اللہ کی مقرر حد اس حکم سے مستثنیٰ ہے۔
- سزا کے معاملے میں اپنی طرف سے سختی بڑھانے سے روکا گیا ہے۔
