صحیح مسلم حدیث ۴۴۶۱ - بیعت نبوی اور بڑے گناہوں سے بچنے کی تعلیم
بیعت نبوی کی حدیث: شرک، زنا، چوری اور ناحق قتل سے بچنے کا عہد
صحیح مسلم : ۴۴۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۶۱
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ ، فَقَالَ : " تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا تَزْنُوا ، وَلَا تَسْرِقُوا ، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ ، فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ ، فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ ، فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ " ،
عبادہ بن صامت روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیعت کرو مجھ سے اس اقرار پر کہ اللہ تعالیٰ کا شریک کسی کو نہیں کرنے کے اور زنا اور چوری اور ناحق خون جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا نہیں کریں گے پھر جو کوئی اپنے اقرار کو پورا کرے گا اس کا ثواب اللہ تعالیٰ پر ہو گا اور جو کوئی کام ان میں سے کر بیٹھے گا پھر اس کو دنیا میں اس کی سزا ملے گی (یعنی حد لگے گی) تو وہی اس کے گناہ کا کفارہ ہے اور جو دنیا میں اللہ تعالیٰ اس کے کام کو چھپا لے تو (عاقبت میں) اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے چاہے اس کو معاف کر دے چاہے عذاب کر لے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۴۶۱ کا خلاصہ
یہ حدیث بیعت نبوی کے اہم اصول بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے عہد لیا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے، چوری نہیں کریں گے اور ایسی جان کو ناحق قتل نہیں کریں گے جسے اللہ نے حرام کیا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ ایمان صرف زبان کا دعویٰ نہیں، بلکہ آدمی اپنے عمل میں بھی اللہ کی نافرمانی سے بچے۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ جو شخص اپنا عہد پورا کرے گا، اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ اور اگر کوئی ان گناہوں میں مبتلا ہو کر دنیا میں سزا پا لے تو وہ سزا اس کے لیے کفارہ بن سکتی ہے۔ جس کے گناہ کو اللہ دنیا میں چھپا لے، اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیعت کی حدیث، بڑے گناہوں سے بچنے کی حدیث اور گناہ کے کفارے کی حدیث جیسے الفاظ اس موضوع سے بہت جڑے ہوئے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا بیعت کی پہلی اور بنیادی شرط ہے۔
- زنا، چوری اور ناحق قتل جیسے کاموں سے بچنا ایمانی عہد کا حصہ ہے۔
- دنیا میں شرعی سزا مل جانا متعلقہ گناہ کے لیے کفارہ ہو سکتا ہے۔
- جس گناہ کو اللہ چھپا دے، اس کا آخری فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے۔
