صحیح مسلم حدیث ۴۴۶۴ - بیعت کی شرائط اور جنت کی امید

بیعت کی شرائط: شرک، گناہ اور نافرمانی سے بچنے کا عہد

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۶۴

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنِّي لَمِنْ النُّقَبَاءِ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا نَزْنِيَ وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَقْتُلَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ، وَلَا نَنْتَهِبَ وَلَا نَعْصِيَ ، فَالْجَنَّةُ إِنْ فَعَلْنَا ذَلِكَ ، فَإِنْ غَشِينَا مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا كَانَ قَضَاءُ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ " ، وَقَالَ ابْنُ رُمْحٍ : كَانَ قَضَاؤُهُ إِلَى اللَّهِ .

عبادہ بن صامت روایت:

میں ان سرداروں میں سے ہوں جنہوں نے بیعت کی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، انہوں نے کہا: ہم نے بیعت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان شرطوں پر کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے، نہ زنا کریں گے، نہ چوری، نہ خون ناحق جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا مگر حق کے بدلے (یعنی قصاص یا حد میں) نہ لوٹیں گے، نہ نافرمانی کریں گے (اللہ کی اس میں سب گناہ آ گئے) اگر ہم ایسا کریں تو ہمارے لیے جنت ہے اور اگر ان کاموں میں سے کوئی کام ہو جائے تو اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے (چاہے معاف کرے چاہے عذاب دے)۔

صحیح مسلم حدیث ۴۴۶۴ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ وہ ان سرداروں میں شامل تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ اس بیعت میں یہ عہد لیا گیا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے، چوری نہیں کریں گے، ناحق قتل نہیں کریں گے، لوٹ مار نہیں کریں گے اور نافرمانی نہیں کریں گے۔ اس حدیث کا انداز بہت صاف ہے: اگر یہ عہد پورا کیا جائے تو جنت کی امید بیان ہوئی، اور اگر ان کاموں میں سے کوئی کام ہو جائے تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے۔ اس میں مسلمان کو اپنے عمل کی ذمہ داری یاد دلائی گئی ہے۔ بیعت کی شرائط، جنت کی حدیث، نافرمانی سے بچنے کی حدیث اور بڑے گناہوں سے توبہ جیسے الفاظ اس روایت کے اہم سرچ موضوعات ہیں۔ اس حدیث میں بات مختصر مگر بہت مضبوط ہے کہ دینی عہد کو زندگی کے عمل میں نبھایا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بیعت میں اللہ کی توحید اور گناہوں سے بچنے کا عہد لیا گیا۔
  • لوٹ مار اور نافرمانی سے بچنا بھی اس عہد کا حصہ تھا۔
  • عہد پورا کرنے والوں کے لیے جنت کی امید بیان ہوئی ہے۔
  • گناہ ہو جانے کی صورت میں آخری فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں