صحیح مسلم حدیث ۴۴۶۵ - جانور، کنواں، کان اور رکاز کا خمس
رکاز میں پانچواں حصہ اور جانور کے نقصان کا حکم
صحیح مسلم : ۴۴۶۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۶۵
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ " ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جانور کا زخمی کرنا لغو ہے (یعنی اس کا تاوان کسی پر نہ ہو گا) اور کنواں لغو ہے اور کان لغو ہے اور رکاز میں پانچواں حصہ ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۴۶۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار باتیں بیان فرمائیں۔ جانور کا زخمی کرنا لغو ہے، یعنی اس کا تاوان کسی پر نہیں۔ کنواں لغو ہے، کان لغو ہے، اور رکاز میں پانچواں حصہ ہے۔ اس روایت کا مرکزی موضوع فقہی ذمہ داری اور رکاز کا خمس ہے۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، اس لیے اس کی وضاحت بھی اسی حد تک رہنی چاہیے جو متن سے ظاہر ہے۔ یہاں یہ بات سامنے آتی ہے کہ بعض حادثاتی نقصانات ایسے ہیں جن پر تاوان نہیں رکھا گیا، جبکہ زمین سے ملنے والے رکاز میں پانچواں حصہ مقرر کیا گیا۔ رکاز کی حدیث، العجماء جرحها جبار، جانور کے نقصان کا حکم، کنویں کا تاوان اور رکاز میں خمس جیسے الفاظ اس حدیث کے لیے اہم سرچ ٹرمز ہیں۔ یہ حدیث مالی حقوق اور حادثاتی نقصان کے باب میں ایک مختصر مگر واضح اصول دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جانور کے زخمی کرنے کو اس حدیث میں تاوان سے خالی بتایا گیا ہے۔
- کنویں اور کان کے حادثے کے بارے میں بھی یہی حکم بیان ہوا ہے۔
- رکاز میں پانچواں حصہ مقرر کیا گیا ہے۔
- حدیث مختصر ہے، اس لیے اس کے حکم کو متن کے الفاظ تک محدود سمجھنا چاہیے۔
