صحیح مسلم حدیث ۴۴۷ - دن اور رات کے اعمال اللہ کی طرف اٹھتے ہیں
دن اور رات کے اعمال اللہ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں
صحیح مسلم : ۴۴۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعٍ ، إِنَّ اللَّهَ ، لَا يَنَامُ ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ ، يَرْفَعُ الْقِسْطَ وَيَخْفِضُهُ ، وَيُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ النَّهَارِ بِاللَّيْلِ ، وَعَمَلُ اللَّيْلِ بِالنَّهَارِ " .
ابوموسیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں کھڑے ہو کر چار باتیں بیان کیں، یہ کہ اللہ تعالیٰ نہیں سوتا اور نہ اس کے لائق ہے سونا، اٹھاتا ہے ترازو کو اور جھکاتا ہے، اٹھایا جاتا ہے اس کی طرف دن کا عمل رات کو اور رات کا عمل دن کو۔
صحیح مسلم حدیث ۴۴۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے چار باتیں ارشاد فرمائیں۔ پہلی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نہیں سوتا اور سونا اس کے لائق نہیں۔ دوسری بات ترازو کے اٹھانے اور جھکانے سے متعلق ہے۔ پھر یہ بتایا گیا کہ دن کا عمل رات کو اور رات کا عمل دن کو اللہ کی طرف اٹھایا جاتا ہے۔ یہ حدیث ہمیں اپنے روزانہ اعمال کے بارے میں سنجیدہ بناتی ہے۔ دن ہو یا رات، انسان کی باتیں، کام اور رویہ اللہ کے علم سے باہر نہیں۔ حدیث میں جو الفاظ آئے ہیں، انہی پر ایمان رکھتے ہوئے ہمیں اپنے معمولات کو بہتر بنانے کی فکر کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دن اور رات دونوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کی طرف پیش ہوتے ہیں۔
- اللہ تعالیٰ نیند سے پاک ہے، اس لیے کوئی عمل اس سے پوشیدہ نہیں۔
- روزمرہ زندگی میں اپنے عمل کا خیال رکھنا چاہیے۔
