صحیح مسلم حدیث ۴۴۹ - جنتیوں کے لیے رب کا دیدار
جنتیوں کے لیے سب سے محبوب نعمت: رب کا دیدار
صحیح مسلم : ۴۴۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۹
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بن مَيْسَرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ صُهَيْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : تُرِيدُونَ شَيْئًا أَزِيدُكُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا ، أَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ ، وَتُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ ؟ قَالَ : فَيَكْشِفُ الْحِجَابَ ، فَمَا أُعْطُوا شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ " ،
صہیب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جنتی، جنت میں جا چکیں گے اس وقت اللہ تعالیٰ فرما دے گا تم اور کچھ زیادہ چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے: کیا تو نے ہمارے منہ سفید نہ کئے ہم کو جنت نہ دی جہنم سے نہ بچایا (اب اور کیا چاہیئے) پھر پردہ اٹھ جائے گا۔ اس وقت جنتیوں کو کوئی چیز اس سے بھلی معلوم نہ ہو گی یعنی اپنے پروردگار کی طرف دیکھنے سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۴۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب جنتی جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا کہ کیا تم کچھ اور چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ کیا ہمارے چہرے روشن نہیں کیے گئے، ہمیں جنت نہیں دی گئی اور آگ سے نہیں بچایا گیا؟ پھر پردہ اٹھایا جائے گا۔ اس وقت جنتیوں کو اپنے رب کی طرف دیکھنے سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں لگے گی۔ اس روایت کا اصل پیغام جنت کی نعمت، اللہ کی عطا، اور دیدارِ رب ہے۔ حدیث میں الفاظ بہت واضح ہیں، اس لیے ہمیں اسی حد میں رہ کر سمجھنا چاہیے کہ جنتیوں کے لیے یہ ایک بہت بڑی نعمت ہو گی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنت میں داخلہ اور آگ سے نجات اللہ کی بڑی نعمت ہے۔
- حدیث کے مطابق جنتیوں کو رب کے دیدار سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہ ہو گی۔
- اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مزید فضل فرمائے گا۔
