صحیح مسلم حدیث ۴۵۱۰ - گری ہوئی چیز چھپانے کی ممانعت
گم شدہ چیز چھپانا: لقطہ کی سخت تنبیہ
صحیح مسلم : ۴۵۱۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۱۰
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ آوَى ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ مَا لَمْ يُعَرِّفْهَا " .
زید بن خالد جہنی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے گری ہوئی چیز رکھ لی وہ گمراہ ہے جب تک اس کے مالک کو دریافت نہ کرے۔“ (اس سے معلوم ہوا کہ لقطہ پہنچانا اور بتلانا ضروری ہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۵۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں بہت واضح اور سخت بات فرمائی گئی ہے کہ جس نے گری ہوئی چیز کو اپنے پاس رکھ لیا، وہ گمراہ ہے جب تک اس کے مالک کو دریافت نہ کرے۔ اس سے لقطہ کے بارے میں اصل ذمہ داری کھل کر سامنے آتی ہے۔ کسی چیز کو پانا، اسے اپنے پاس رکھ لینا، اور مالک کی تلاش نہ کرنا درست رویہ نہیں۔ حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ گم شدہ چیز کو امانت سمجھا جائے اور اس کے مالک تک پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ یہاں لقطہ کا حکم صرف مالی مسئلہ نہیں، بلکہ دیانت کا مسئلہ ہے۔ اگر کوئی شخص مالک کو تلاش کرتا ہے تو اس کا معاملہ الگ ہے، لیکن جو چیز چھپا کر رکھتا ہے، اس کے لیے حدیث میں تنبیہ آئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گم شدہ چیز رکھ کر مالک کو نہ بتلانا سخت غلطی ہے۔
- لقطہ کے مالک کو تلاش کرنا ضروری ہے۔
- امانت داری کا تقاضا ہے کہ مالِ غیر کو چھپایا نہ جائے۔
