صحیح مسلم حدیث ۴۵۱۱ - دوسرے کے جانور کا دودھ بغیر اجازت نہ دوہو
اجازت کی حدیث: کسی کے جانور کا دودھ نہ دوہو
صحیح مسلم : ۴۵۱۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۱۱
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ ، فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ ، فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ إِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَتَهُمْ ، فَلَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ " ،
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی تم میں سے دوسرے کے جانور کا دودھ نہ دوہے مگر اس کی اجازت سے، کیا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کی کوٹھڑی میں کوئی آئے اور اس کا خزانہ توڑ کر اس کے کھانے کا غلہ نکال لے جائے؟ اسی طرح جانوروں کے تھن ان کے خزانے ہیں کھانے کو۔ تو کوئی نہ دوہے کسی کے جانور کا دودھ بغیر اس کی اجازت کے۔“مگر جو مرتا ہو مارے بھوک کے وہ بقدر ضرورت کے دوسرے کا کھانا بلا اجازت کھا سکتا ہے لیکن اس پر قیمت لازم ہو گی اور بعض سلف محدثین کے نزدیک لازم نہ ہو گی۔ اگر مردار بھی موجود ہو تو اس میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک مردار کھا لے اور بعض کے نزدیک غیر کا کھانا)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۵۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں دوسرے کے مال کے احترام کا بہت آسان اور سمجھ میں آنے والا انداز بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص کسی دوسرے کے جانور کا دودھ اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے۔ پھر مثال دے کر سمجھایا کہ کیا کوئی پسند کرے گا کہ کوئی اس کی کوٹھڑی میں آ کر اس کا خزانہ توڑے اور کھانے کا غلہ نکال لے جائے؟ اسی طرح جانوروں کے تھن بھی ان کے مالک کے لیے کھانے کا خزانہ ہیں۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ چھوٹی نظر آنے والی چیز بھی مالک کی اجازت کے بغیر لینا درست نہیں۔ یہاں اصل سبق اجازت، مال کا حق، امانت داری اور دوسروں کی ملکیت کا احترام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کے جانور کا دودھ اجازت کے بغیر نہیں دوہنا چاہیے۔
- دوسرے کے مال کو اپنے مال کی طرح محفوظ سمجھنا چاہیے۔
- حدیث نے دودھ کو مالک کے کھانے کے خزانے سے تشبیہ دی ہے۔
