صحیح مسلم حدیث ۴۵۰۲ - سونا چاندی اور گم شدہ جانور کا حکم

لقطہ کی حدیث: سونا، چاندی، اونٹ اور بکری کا حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۰۲

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ ، فَقَالَ : " اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً ، فَإِنْ لَمْ تَعْرِفْ ، فَاسْتَنْفِقْهَا وَلْتَكُنْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ ، فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ، وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ ، فَقَالَ : مَا لَكَ وَلَهَا دَعْهَا ، فَإِنَّ مَعَهَا حِذَاءَهَا وَسِقَاءَهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَجِدَهَا رَبُّهَا ، وَسَأَلَهُ عَنِ الشَّاةِ ، فَقَالَ : خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " ،

زید بن خالد جہنی روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا سونا یا چاندی کے لقطہ کو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا بندھن اور اس کی تھیلی پہچان رکھ۔ پھر سال بھر تک لوگوں سے دریافت کر اگر کوئی نہ پہچانے تو اس کو خرچ کر ڈال لیکن وہ امانت رہے گا تیرے پاس (اور صرف کرنے سے پیچھے جب مالک آئے تو تاوان دینا ہو گا) پھر جب اس کا مالک کسی دن بھی آئے تو اس کو ادا کر۔“اور پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کو جو بھولا بھٹکا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے تجھے کیا کام؟ اس کے ساتھ اس کا جوتا ہے، مشکیزہ ہے، پانی پیتا ہے، درخت کے پتے کھاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا مالک پائے اس کو۔“ اور پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکری کو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لے لے کیونکہ وہ بکری تیری ہے یا تیرے بھائی کی ہے یا بھیڑیئے کی ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۵۰۲ کا خلاصہ

یہ حدیث لقطہ کے احکام کو آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔ اگر سونا یا چاندی جیسی گری ہوئی چیز ملے تو اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان کر رکھا جائے، پھر ایک سال تک اس کے مالک کو تلاش کیا جائے۔ اگر مالک نہ ملے تو اسے استعمال کیا جا سکتا ہے، مگر حدیث کے مطابق وہ امانت ہی رہے گی۔ جب مالک کبھی بھی آجائے تو اسے واپس ادا کرنا ہوگا۔ بھٹکے ہوئے اونٹ کے بارے میں فرمایا گیا کہ اسے چھوڑ دو، کیونکہ وہ پانی پی سکتا ہے اور درخت کے پتے کھا سکتا ہے، یہاں تک کہ مالک اسے پا لے۔ بکری کے بارے میں فرمایا کہ اسے لے لو، کیونکہ وہ یا تو تمہارے لیے ہے، یا تمہارے بھائی کے لیے، یا بھیڑیے کے لیے۔ اس میں گم شدہ چیز کا حکم، مالک کی تلاش اور امانت داری کا مضبوط سبق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سونا یا چاندی ملے تو اس کی پہچان محفوظ رکھی جائے۔
  • مالک نہ ملنے پر بھی مال امانت رہتا ہے۔
  • بھٹکے اونٹ کو نہ چھیڑا جائے، جبکہ بکری کے بارے میں الگ حکم آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں