صحیح مسلم حدیث ۴۵۰۳ - مالک کی پہچان اور امانت داری
امانت داری کی حدیث: مالک کی پہچان کیسے کی جائے
صحیح مسلم : ۴۵۰۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۰۳
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَرَبِيعَةُ الرَّأْيِ ابْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ : " أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ زَادَ رَبِيعَةُ " فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ " ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ " فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَعَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ ”جب اس کا مالک آئے تو پوچھ اس سے تھیلی کو (وہ کیسی ہے؟) اور گنتی کو (کتنے روپے ہیں؟) اور بندھن کو (وہ کیسا ہے؟) پھر اگر وہ بیان کرے تو دے دے اس کو ورنہ وہ تیرا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۵۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں لقطہ کے معاملے کا ایک خاص پہلو بیان ہوا ہے۔ اگر گم شدہ مال کا مالک آجائے تو صرف دعویٰ سن کر چیز فوراً نہ دے دی جائے، بلکہ اس سے پہچان پوچھی جائے۔ حدیث میں تھیلی، گنتی اور بندھن کا ذکر ہے۔ یعنی جو شخص مالک ہونے کا دعویٰ کرے، وہ ان چیزوں کی صحیح پہچان بتائے۔ اگر وہ پہچان بتا دے تو مال اسے دے دیا جائے، ورنہ وہ پانے والے کے پاس رہ سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امانت داری کا مطلب صرف چیز اٹھا کر رکھ لینا نہیں، بلکہ صحیح مالک تک پہنچانے میں احتیاط کرنا بھی ہے۔ یہ حدیث گم شدہ چیز کا حکم، مالک کی تصدیق اور مال کے حق کی حفاظت کو بہت واضح کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مالک کے دعوے کی پہچان کے ذریعے تصدیق کی جائے۔
- گنتی، تھیلی اور بندھن جیسی نشانیاں یاد رکھنا ضروری ہے۔
- غلط شخص کو مال دینا بھی امانت میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔
