صحیح مسلم حدیث ۴۵۰۵ - لقطہ کی پہچان محفوظ رکھنا
لقطہ کی پہچان: بندھن، تھیلہ اور شمار یاد رکھیں
صحیح مسلم : ۴۵۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۰۵
وحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ " فَإِنِ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّهَا وَإِلَّا فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَدَدَهَا " .
وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ ”اگر کوئی پہچانے تو دے دے اس کو نہیں تو یاد رکھ اس کا بندھن اور اس کا تسمہ اور اس کا تھیلہ اور اس کا شمار۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۵۰۵ کا خلاصہ
اس روایت میں لقطہ کی پہچان پر خاص توجہ دلائی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص گم شدہ چیز کو پہچان لے اور وہ واقعی اس کا مالک ہو تو اسے دے دیا جائے۔ اگر کوئی پہچاننے والا نہ ملے تو پانے والے کو چاہیے کہ اس چیز کے بندھن، تسمے، تھیلے اور شمار کو یاد رکھے۔ یہ تفصیل بتاتی ہے کہ لقطہ صرف اٹھا لینے کی چیز نہیں، بلکہ ذمہ داری ہے۔ جب مالک آئے تو صحیح نشانیاں ملانے سے معلوم ہو سکے کہ دعویٰ درست ہے یا نہیں۔ اس حدیث میں امانت داری، احتیاط اور گم شدہ مال کے حق کی حفاظت کا پیغام ہے۔ اس سے عام زندگی میں بھی سبق ملتا ہے کہ دوسرے کے مال کے بارے میں لاپرواہی نہیں کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گم شدہ چیز کی واضح نشانیاں یاد رکھی جائیں۔
- صحیح پہچان بتانے والے مالک کو مال واپس کیا جائے۔
- لقطہ میں احتیاط امانت داری کا حصہ ہے۔
