حدیث ۴۵۰۶
صحیح مسلم : ۴۵۰۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۰۶
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ " قَالَ : خَرَجْتُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ ، وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ غَازِينَ ، فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ ، فَقَالا لِي : دَعْهُ ، فَقُلْتُ : لَا وَلَكِنِّي أُعَرِّفُهُ ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهُ وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ ، قَالَ : فَأَبَيْتُ عَلَيْهِمَا ، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزَاتِنَا قُضِيَ لِي أَنِّي حَجَجْتُ ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِشَأْنِ السَّوْطِ وَبِقَوْلِهِمَا ، فَقَالَ : إِنِّي وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : عَرِّفْهَا حَوْلًا ، قَالَ : فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : عَرِّفْهَا حَوْلًا ، فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : عَرِّفْهَا حَوْلًا ، فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ، فَقَالَ : احْفَظْ عَدَدَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا " ، فَاسْتَمْتَعْتُ بِهَا ، فَلَقِيتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِمَكَّةَ ، فَقَالَ : لَا أَدْرِي بِثَلَاثَةِ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلٍ وَاحِدٍ ،
سلمہ بن کہیل سے روایت ہے، میں نے سوید بن غفلہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں اور زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ جہاد کو نکلے میں نے ایک کوڑا پڑا پایا، اس کو اٹھا لیا۔ زید اور سلمان نے کہا: پھینکو۔ میں نے کہا: نہیں پھینکتا۔ بلکہ میں اس کو دریافت کروں گا۔ پھر اگر اس کا مالک آئے گا تو خیر ورنہ میں اپنے کام میں رکھوں گا۔ وہ کہتے گئے پھینک۔ پر میں نے نہ مانا ہم جہاد سے لوٹے تو اتفاق سے میں نے حج کیا اور مدینہ کو گیا۔ وہاں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملا۔ ان سے میں نے کوڑے کا حال بیان کیا اور جو زید اور سلمان کہتے تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے ایک تھیلی پائی سو اشرفیوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں، میں اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سال بھر دریافت کر، اس کے مالک کو۔“ میں نے دریافت کیا۔ کوئی پہچاننے والا نہیں ملا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال اور دریافت کر۔“ میں نے پوچھا: کوئی نہ ملا۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی گنتی کر اور ایک کی تھیلی اور ڈھکن دل میں جما لے پھر اگر اس کا مالک آیا تو خیر ورنہ تو اپنے خرچ میں لا۔“ میں نے اس کو خرچ کیا۔ راوی کو شک ہے اس حدیث میں کہ تین سال دریافت کرنے کے لئے فرمایا یا ایک سال کے لیے۔
