صحیح مسلم حدیث ۴۵۰۷ - ایک سال تک لقطہ بتلانے کا حکم
لقطہ کا اعلان: ایک سال تک مالک کی تلاش
صحیح مسلم : ۴۵۰۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۰۷
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، أَوْ أَخْبَرَ الْقَوْمَ وَأَنَا فِيهِمْ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ ، وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ ، فَوَجَدْتُ سَوْطًا وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ إِلَى قَوْلِهِ " فَاسْتَمْتَعْتُ بِهَا " ، قَالَ شُعْبَةُ : فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ يَقُولُ : عَرَّفَهَا عَامًا وَاحِدًا ،
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ کہ شعبہ نے کہا: میں سلمہ سے ملا دس برس کے بعد تو وہ کہنے لگے: ایک سال تک بتلا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۵۰۷ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلے واقعے ہی کی ایک سند سے ہے، مگر اس میں ایک اہم بات صاف طور پر سامنے آتی ہے۔ شعبہ نے بیان کیا کہ وہ سلمہ سے دس برس بعد ملے تو انہوں نے کہا کہ اسے ایک سال تک بتلایا گیا۔ اس سے لقطہ کے بارے میں ایک سال اعلان کرنے والی بات مزید واضح ہو جاتی ہے۔ گم شدہ چیز ملنے پر اصل مقصد یہ نہیں کہ آدمی فوراً اسے اپنے کام میں لے آئے، بلکہ پہلے مالک تک خبر پہنچانے کی کوشش کرے۔ لقطہ کی حدیث کا مرکزی سبق یہی ہے کہ دوسرے کے مال کو امانت سمجھا جائے۔ ایک سال تک بتلانا، پہچان محفوظ رکھنا اور مالک آئے تو واپس کرنا، یہ سب امانت داری کے عملی طریقے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں ایک سال تک لقطہ بتلانے کی بات واضح ہے۔
- گم شدہ مال کے معاملے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔
- حدیث کی روایت میں الفاظ کی وضاحت بھی اہم ہوتی ہے۔
