صحیح مسلم حدیث ۴۵۰۱ - لقطہ کی امانت اور مالک کی تلاش
لقطہ کی حدیث: گری ہوئی چیز امانت ہے
صحیح مسلم : ۴۵۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۰۱
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ , يَقُولُ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " فَاحْمَارَّ وَجْهُهُ وَجَبِينُهُ وَغَضِبَ " وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ : " ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ لَمْ يَجِئْ صَاحِبُهَا كَانَتْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک اور پیشانی سرخ ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے ہوئے اور زیادہ کیا اس کے بعد کہ ”ایک سال تک بتلا۔ پھر اگر اس کا مالک نہ آئے تو وہ تیرے پاس امانت رہے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۵۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں لقطہ یعنی گری ہوئی چیز کے بارے میں بہت صاف رہنمائی ملتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی کی گم شدہ چیز مل جائے تو اسے فوراً اپنی ملکیت نہ سمجھا جائے۔ حدیث کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اسے ایک سال تک لوگوں میں بتلایا جائے، تاکہ مالک تک خبر پہنچ سکے۔ اگر اس مدت میں مالک نہ آئے تو وہ چیز پانے والے کے پاس امانت رہے گی۔ اس روایت میں یہ بھی ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاملے میں سختی پسند تھی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک اور پیشانی پر غصے کا اثر ظاہر ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مالِ غیر، امانت داری، مالک کی تلاش اور گم شدہ چیز کا حق بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گری ہوئی چیز ملے تو مالک کو تلاش کرنا ضروری ہے۔
- ایک سال تک اعلان اور پہچان کرانے کا حکم اس روایت میں آیا ہے۔
- مالک نہ ملے تو چیز کو امانت سمجھا جائے، ذاتی حق نہیں۔
