صحیح مسلم حدیث ۴۵۲۵ - آسانی کرو نفرت نہ دلاؤ
آسانی کرو اور نفرت نہ دلاؤ: دعوت کا نرم انداز
صحیح مسلم : ۴۵۲۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۲۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي بَعْضِ أَمْرِهِ ، قَالَ : " بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا " .
ابوموسیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے کوئی کام دے کر بھیجتے تو فرماتے: ”خوشخبری سناؤ اور نفرت مت دلاؤ، آسانی کرو اور دشواری مت ڈالو۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۵۲۵ کا خلاصہ
یہ حدیث آسانی کرو اور سختی نہ کرو کے مشہور نبوی پیغام کو بہت سادہ لفظوں میں بیان کرتی ہے۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جب اپنے اصحاب میں سے کسی کو کسی کام کے لیے بھیجتے تو فرماتے: خوشخبری سناؤ اور نفرت مت دلاؤ، آسانی کرو اور دشواری مت ڈالو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کی بات پہنچاتے وقت لہجہ ایسا ہو جو لوگوں کو قریب کرے، بے جا سختی سے دور نہ کرے۔ متن میں کسی خاص مسئلے کی تفصیل نہیں، بلکہ عمومی انداز بتایا گیا ہے۔ اس لیے اس حدیث کو دعوت، تعلیم، مشورہ اور روزمرہ معاملات میں نرم رویے کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ نرمی کے ساتھ خیر کی طرف بلایا جائے اور لوگوں پر غیر ضروری بوجھ نہ ڈالا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کی بات کرتے ہوئے خوشخبری اور امید کا انداز اختیار کیا جائے۔
- لوگوں کو نفرت دلانے والا رویہ اپنانے سے منع کیا گیا۔
- کام میں آسانی کی جائے اور بلا وجہ دشواری نہ ڈالی جائے۔
