صحیح مسلم حدیث ۴۵۲۶ - آسانی، خوشخبری اور اتفاق

آسانی اور اتفاق کی حدیث: مل کر کام کرنے کا نبوی اصول

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۲۶

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ ، فَقَالَ : " يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا ، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا ، وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا " ,

ابوموسیٰ روایت:

سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو بھیجا یمن کی طرف تو فرمایا ”آسانی کرو، دشواری اور سختی مت کرو، خوش کرو اور نفرت مت دلاؤ اور اتفاق سے کام کرو، پھوٹ مت کرو۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۵۲۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سیدنا ابوموسیٰ اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجتے وقت چار صاف ہدایات دیں: آسانی کرو، سختی نہ کرو، خوش کرو، نفرت نہ دلاؤ، اتفاق سے کام کرو، اور اختلاف نہ کرو۔ یہ حدیث خاص طور پر ان لوگوں کے لیے بہت اہم ہے جو کسی دینی، تعلیمی یا انتظامی کام کے لیے بھیجے جائیں۔ متن بتاتا ہے کہ کام صرف صحیح بات کہہ دینے کا نام نہیں، بلکہ انداز بھی درست ہونا چاہیے۔ آسانی، خوشی اور باہمی تعاون کو ساتھ رکھا گیا ہے۔ یہاں اختلاف سے مراد اسی کام میں پھوٹ ڈالنے والا رویہ ہے جس سے مشن کمزور ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ روایت ہمیں نرم دعوت، ٹیم ورک اور ذمہ دار رویہ سکھاتی ہے، مگر اس سے کوئی ایسی بات نہیں نکالی جائے گی جو متن میں موجود نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی یا اجتماعی کام میں آسانی اور نرمی کا انداز رکھا جائے۔
  • لوگوں کو خوش کرنا اور نفرت سے بچانا اہم ہدایت ہے۔
  • ساتھ کام کرنے والوں کو اتفاق رکھنے اور پھوٹ سے بچنے کا حکم دیا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں