صحیح مسلم حدیث ۴۵۴۱ - دشمن سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو

دشمن سے مقابلہ کی حدیث: اصل پیغام صبر ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۴۱

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت آرزو کرو دشمن سے ملنے کی اور جب ملو تو صبر کرو۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۵۴۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع صبر اور احتیاط ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے صاف فرمایا کہ دشمن سے ملنے کی آرزو نہ کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کو بلا وجہ سخت حالات کی خواہش نہیں کرنی چاہیے۔ دین میں بہادری کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی خود مشکل کو پکارے، بلکہ سمجھ داری یہ ہے کہ دل کو بے جا خواہشات سے بچائے۔ پھر اگر دشمن سے سامنا ہو ہی جائے تو بھاگنے یا گھبرانے کے بجائے صبر کیا جائے۔ اس لیے دشمن سے مقابلہ کی حدیث ہمیں جذبات سے زیادہ ضبط، تحمل اور ثابت قدمی سکھاتی ہے۔ یہ صبر کی حدیث عام زندگی میں بھی سمجھ دیتی ہے کہ مشکل خود نہ مانگو، مگر آ جائے تو ہمت نہ ہارو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دشمن سے مقابلہ کی خواہش کرنا پسندیدہ رویہ نہیں۔
  • مشکل آ جائے تو صبر اور ثابت قدمی اختیار کرنی چاہیے۔
  • مسلمان کو جذبات کے بجائے سنجیدگی سے کام لینا چاہیے۔
  • بے جا آرزو سے بچنا بھی دینی سمجھ داری ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں