صحیح مسلم حدیث ۴۵۴۲ - دشمن سے مقابلہ نہیں، اللہ سے عافیت مانگو
اللہ سے عافیت مانگنے کی حدیث اور صبر کا پیغام
صحیح مسلم : ۴۵۴۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۴۲
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ كِتَابِ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى ، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ حِينَ سَارَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ يُخْبِرُهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ يَنْتَظِرُ حَتَّى إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فِيهِمْ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ ، وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ " .
ابوالنضر روایت:
ابوالنضر سے روایت ہے، اس نے کتاب پڑھی عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کی جو قبیلۂ اسلم سے تھے اور صحابی تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے، انہوں نے لکھا عمر بن عبیداللہ کو جب وہ گئے خارجیوں کے پاس جو حرورا میں رہتے تھے (ان سے لڑنے کو) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن دنوں میں دشمن سے ملاقات ہوئی انتظار کیا یہاں تک کہ جب آفتاب ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! مت آرزو کرو دشمن سے ملنے کی اور اللہ تعالیٰ سے سلامتی چاہو، جب تم دشمن سے ملو تو صبر کرو اور یہ سمجھ لو کہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے اللہ! کتاب کے اتارنے والے اور بادل کے چلانے والے اور جتھوں کو بھگا دینے والے بھگا دے ان کو اور ہماری مدد کر ان کے سامنے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۵۴۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے لوگوں کو بہت صاف انداز میں سمجھایا کہ دشمن سے ملنے کی تمنا نہ کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خود اپنے لیے سختی نہ چاہے۔ امن، سلامتی اور عافیت اللہ کی بڑی نعمتیں ہیں۔ لیکن اگر دشمن سے ملاقات ہو جائے تو صبر کرنا ہے۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے، یعنی ایسے سخت موقع پر ثابت قدم رہنا بہت بڑا عمل ہے۔ پھر نبی صلى الله عليه وسلم نے اللہ سے مدد کی دعا کی: اے کتاب اتارنے والے، بادل چلانے والے، جتھوں کو بھگانے والے، ان کو بھگا دے اور ہماری مدد فرما۔ یہ عافیت کی حدیث ہمیں دعا، صبر اور اللہ پر بھروسہ سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دشمن سے مقابلہ مانگنے کے بجائے اللہ سے عافیت مانگنی چاہیے۔
- سامنا ہو جائے تو صبر اور ثابت قدمی ضروری ہے۔
- سخت حالات میں اللہ سے مدد کی دعا کرنی چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے عمل کے ساتھ دعا کو بھی اختیار فرمایا۔
