صحیح مسلم حدیث ۴۵۴۳ - احزاب کے مقابلے میں نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا
احزاب کے خلاف دعا: مشکل وقت میں اللہ سے مدد
صحیح مسلم : ۴۵۴۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۴۳
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ ، اهْزِمْ الْأَحْزَابَ اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ " ،
عبداللہ بن ابی اوفی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کی احزاب پر (جس دن کافروں کی کئی جماعتیں آپ سے لڑنے آئی تھیں ۵ ہجری میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خندق میں تھے) تو فرمایا: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمِ الأَحْزَابَ اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ» ”اے اللہ! اتارنے والے کتاب کے، جلد حساب لینے والے، بھگا دے ان جتھوں کو، یا اللہ! بھگا دے ان کو، ہلا دے ان کو۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۵۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی پیغام دعا اور اللہ پر بھروسہ ہے۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے احزاب پر بددعا کی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اللہ کو کتاب اتارنے والا اور جلد حساب لینے والا کہہ کر پکارا، پھر دعا کی کہ اے اللہ! ان جتھوں کو بھگا دے، اے اللہ! ان کو شکست دے اور انہیں ہلا دے۔ اس احزاب کی دعا میں ہمیں یہ بات ملتی ہے کہ سخت وقت میں بندہ اپنی طاقت پر نہیں اتراتا، بلکہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، مگر پیغام بہت واضح ہے: مدد اللہ سے مانگی جاتی ہے، اور مشکل میں دل کا رخ اسی کی طرف ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکل حالات میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا نبوی طریقہ ہے۔
- دعا میں اللہ کی صفات کے ساتھ اسے پکارنا درست ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے دشمن کے مقابلے میں اللہ سے مدد مانگی۔
- سخت وقت میں اصل سہارا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
