صحیح مسلم حدیث ۴۵۸۱ - فدک کی حدیث اور بیعت کا واقعہ

فدک کی حدیث: حق بات ماننے اور بیعت کا سبق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۸۱

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وقَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ فَاطِمَةَ ، وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَهُ مِنْ فَدَكٍ وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ ، فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ فَعَظَّمَ مِنْ حَقِّ أَبِي بَكْرٍ ، وَذَكَرَ فَضِيلَتَهُ وَسَابِقَتَهُ ثُمَّ مَضَى إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَبَايَعَهُ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَى عَلِيٍّ ، فَقَالُوا : أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ ، فَكَانَ النَّاسُ قَرِيبًا إِلَى عَلِيٍّ حِينَ قَارَبَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ .

عائشہ روایت:

سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما دونوں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اپنا حصہ مانگتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مال میں سے اور وہ اس وقت طلب کرتے تھے فدک کی زمین اور خیبر کا حصہ۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح جیسے اوپر گزری اس میں یہ ہے کہ پھر سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کھڑے ہوئے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بڑائی بیان کی اور ان کے فضیلت اور سبقت اسلام کا ذکر کیا، پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے بیعت کی۔ اس وقت لوگ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے آپ نے ٹھیک کیا اور اچھا کیا اور اس وقت سے لوگ ان کے طرفدار ہو گئے جب سے انہوں نے واجبی بات کو مان لیا۔

صحیح مسلم حدیث ۴۵۸۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع فدک کی حدیث، خیبر کا حصہ اور صحابہ کے باہمی معاملے سے متعلق ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے مال میں سے اپنا حصہ طلب کیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے سنی ہوئی بات بیان کی۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حق، فضیلت اور اسلام میں سبقت بیان کی، پھر ان کے پاس گئے اور بیعت کی۔ لوگوں نے اسے اچھی بات سمجھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اختلاف کے وقت اصل بات دلیل، احترام اور حق کو ماننے پر ہے، نہ کہ ضد پر۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اختلاف میں بات رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی تعلیم کی طرف لوٹائی جائے۔
  • بزرگوں اور اہل فضل کا احترام بیان کرنا اچھی بات ہے۔
  • حق واضح ہو جائے تو اسے مان لینا بہتر رویہ ہے۔
  • بیعت اور اجتماعی معاملے میں سنجیدگی اور ادب ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں