صحیح مسلم حدیث ۴۶۱۷ - حنین میں نبی صلى الله عليه وسلم نہیں بھاگے
حنین کی حدیث: رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نہیں بھاگے
صحیح مسلم : ۴۶۱۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۱۷
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ : وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ ، أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ؟ ، فَقَالَ الْبَرَاءُ : وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ ، وَكَانَتْ هَوَازِنُ يَوْمَئِذٍ رُمَاةً وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمُ انْكَشَفُوا ، فَأَكْبَبْنَا عَلَى الْغَنَائِمِ فَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّهَامِ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَهُوَ ، يَقُولُ : أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ " ،
ابواسحاق روایت:
میں نے سنا سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے، ان سے پوچھا ایک شخص نے قیس کے، کیا تم بھاگ گئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر حنین کے دن۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے کہا: مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بھاگے ایسا ہوا کہ ہوازن قبیلہ کے لوگ ان دنوں تیر انداز تھے اور ہم نے جب ان پر حملہ کیا تو وہ بھاگے اور ہم لوٹ کے مال پر جھکے۔ تب انہوں نے تیر چلائے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اپنے سفید خچر پر اور ابوسفیان بن حارث اس کی لگام پکڑے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «أَنَا النَّبِىُّ لاَ كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ» ”میں نبی ہوں کچھ جھوٹ نہیں ہے میں بیٹا ہوں عبدالمطلب کا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۶۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں براءؓ سے پوچھا گیا کہ کیا تم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو چھوڑ کر حنین کے دن بھاگ گئے تھے؟ انہوں نے صاف کہا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نہیں بھاگے۔ پھر واقعہ بتایا کہ ہوازن کے لوگ اس دن تیر انداز تھے۔ مسلمانوں نے حملہ کیا تو وہ ہٹے، پھر مسلمان مال غنیمت کی طرف متوجہ ہوئے، تو دشمن نے تیروں سے حملہ کیا۔ براءؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو سفید خچر پر دیکھا، ابو سفیان بن حارثؓ اس کی لگام پکڑے ہوئے تھے، اور آپ صلى الله عليه وسلم فرما رہے تھے: میں نبی ہوں، جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ یہ حدیث حنین کا واقعہ، نبی صلى الله عليه وسلم کی ثابت قدمی، صحابہؓ کا سوال و جواب، اور مال غنیمت کی طرف متوجہ ہونے کے بعد پیش آنے والی حالت کو بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- براءؓ نے نبی صلى الله عليه وسلم کی ثابت قدمی کی واضح گواہی دی۔
- دشمن کے تیر انداز ہونے کا ذکر واقعے کی شدت کو سمجھاتا ہے۔
- مال غنیمت کی طرف توجہ کے بعد دشمن نے تیروں سے حملہ کیا۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سخت وقت میں اپنے مقام پر قائم رہے۔
