صحیح مسلم حدیث ۴۶۱۵ - میں نبی ہوں، جھوٹ نہیں

انا النبی لا کذب: غزوہ حنین میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی ثابت قدمی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۱۵

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ ، لِلْبَرَاءِ " يَا أَبَا عُمَارَةَ : أَفَرَرْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ ؟ ، قَالَ : لَا وَاللَّهِ مَا وَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَكِنَّهُ خَرَجَ شُبَّانُ أَصْحَابِهِ وَأَخِفَّاؤُهُمْ حُسَّرًا لَيْسَ عَلَيْهِمْ سِلَاحٌ أَوْ كَثِيرُ سِلَاحٍ ، فَلَقُوا قَوْمًا رُمَاةً لَا يَكَادُ يَسْقُطُ لَهُمْ سَهْمٌ جَمْعَ هَوَازِنَ ، وَبَنِي نَصْرٍ ، فَرَشَقُوهُمْ رَشْقًا مَا يَكَادُونَ يُخْطِئُونَ ، فَأَقْبَلُوا هُنَاكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَقُودُ بِهِ ، فَنَزَلَ فَاسْتَنْصَرَ ، وَقَالَ : " أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ، ثُمَّ صَفَّهُمْ " .

ابواسحاق روایت:

ایک شخص نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوعمارہ! تم حنین کے دن بھاگے؟ انہوں نے کہا: نہیں قسم اللہ کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں موڑی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے چند جوان جلد باز جن کے پاس ہتھیار نہ تھے یا پورے ہتھیار نہ تھے نکلے، ان کا مقابلہ ایسے تیراندازوں سے ہوا، جن کا کوئی تیر خطا نہ کرتا تھا وہ لوگ ہوازن اور بنی نضر کے تھے غرض انہوں نے ایک بارگی تیروں کی ایسی بوچھاڑ کی کہ کوئی تیر خطا نہ ہوا۔وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفید خچر پر سوار تھے اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب اسے چلا رہے تھے۔ تو خچر سے اترے اور مدد کی دعا مانگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَنَا النَّبِىُّ لاَ كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ» یعنی ”میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صف باندھی اپنے لوگوں کی۔

صحیح مسلم حدیث ۴۶۱۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک شخص نے براء بن عازبؓ سے پوچھا کہ کیا تم حنین کے دن بھاگ گئے تھے؟ براءؓ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ہرگز پیٹھ نہیں پھیری۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ جوان صحابہؓ، جن کے پاس پورے ہتھیار نہیں تھے، تیر اندازوں کے سامنے آ گئے۔ ہوازن اور بنی نصر کے تیر اندازوں نے بہت تیز تیر برسائے۔ لوگ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی طرف پلٹے، آپ صلى الله عليه وسلم سفید خچر پر تھے، پھر آپ صلى الله عليه وسلم اترے، مدد کی دعا مانگی، اور فرمایا: میں نبی ہوں، یہ جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے لوگوں کی صف بندی فرمائی۔ یہ غزوہ حنین کی حدیث نبی صلى الله عليه وسلم کی شجاعت، دعا، اور سخت وقت میں صحابہؓ کو منظم کرنے کا بیان ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم حنین کے سخت وقت میں ثابت قدم رہے۔
  • براءؓ نے صاف کہا کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے مدد کی دعا کی اور لوگوں کی صف بندی فرمائی۔
  • لڑائی میں بے ہتھیار یا کم ہتھیار لوگ زیادہ خطرے میں آ سکتے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں