صحیح مسلم حدیث ۴۶۱۸ - حنین کی کم الفاظ والی روایت
حنین کی روایت: کم الفاظ، وہی اصل مضمون
صحیح مسلم : ۴۶۱۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۱۸
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : قَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عُمَارَةَ : ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ أَقَلُّ مِنْ حَدِيثِهِمْ وَهَؤُلَاءِ أَتَمُّ حَدِيثًا .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۶۱۸ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی براءؓ کے سوال و جواب کا مضمون آیا ہے، لیکن راوی نے بتایا کہ یہ حدیث دوسری روایات کے مقابلے میں کم الفاظ پر مشتمل ہے، اور دوسرے راویوں کی روایت زیادہ مکمل ہے۔ اس لیے اس حدیث کا اہم پہلو صرف واقعہ نہیں، بلکہ روایت کے بیان کا طریقہ بھی ہے۔ اصل موضوع حنین ہے: ایک شخص کا سوال، براءؓ کا جواب، اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی ثابت قدمی کا ذکر۔ چونکہ متن خود بتاتا ہے کہ یہ روایت کم ہے، اس لیے اس سے وہی بات لی جائے گی جو دوسری مفصل روایات سے بھی ثابت ہے، مگر یہاں اضافی دعویٰ نہیں کیا جائے گا۔ حدیث پڑھنے والے کے لیے یہ امانت کا سبق ہے کہ مختصر اور مفصل روایت میں فرق مانا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کبھی ایک ہی حدیث کم اور زیادہ الفاظ کے ساتھ آتی ہے۔
- راویوں نے روایت کے مختصر ہونے کو صاف بیان کیا۔
- اصل مضمون حنین میں نبی صلى الله عليه وسلم کی ثابت قدمی سے متعلق ہے۔
- حدیث سمجھتے وقت مکمل اور مختصر روایت کا فرق دیکھنا چاہیے۔
