صحیح مسلم حدیث ۴۶۳۴ - اپنی رائے پر اعتماد میں احتیاط

اپنی رائے کو پرکھنے کی حدیث: حدیبیہ سے ملا سبق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۳۴

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ ، يَقُولُ : " بِصِفِّينَ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ ، وَلَوْ أَنِّي أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَدَدْتُهُ وَاللَّهِ ، مَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا إِلَى أَمْرٍ قَطُّ ، إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ إِلَّا أَمْرَكُمْ هَذَا " ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنُ نُمَيْرٍ إِلَى أَمْرٍ قَطُّ ،

سہل بن حنیف روایت:

شقیق سے روایت ہے، میں نے سہل بن حنیف سے سنا، وہ کہتے تھے صفین میں اے لوگو! اپنی عقلوں کا قصور سمجھو، قسم اللہ کی تم دیکھتے مجھ کو ابوجندل کے روز (یعنی حدیبیہ کے دن ابوجندل کا نام عاص بن سہیل بن عمرو تھا) اگر میں طاقت رکھتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو پھیرنے کی البتہ پھیر دیتا اس کو (یہ مبالغہ کے طور پر کہا یعنی صلح ہم کو ایسی ناگوار تھی) قسم اللہ کی ہم نے کبھی اپنی تلواریں کاندھوں پر نہیں رکھیں مگر وہ لے گئیں ہم کو اس بات کی طرف جس کو ہم جانتے ہیں مگر اس لڑائی میں (جو شام والوں سے تھی)۔

صحیح مسلم حدیث ۴۶۳۴ کا خلاصہ

یہ حدیث سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی نصیحت پر مشتمل ہے۔ صفین کے دن انہوں نے لوگوں سے کہا کہ اپنی رائے کا قصور سمجھو۔ پھر حدیبیہ کے دن ابو جندل کے واقعے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ اگر میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حکم کو بدلنے کی طاقت رکھتا تو بدل دیتا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اس وقت صلح صحابہ کو بہت بھاری محسوس ہوئی، مگر وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حکم سے آگے نہ بڑھے۔ سہل رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا کہ ہم نے جب بھی تلواریں کاندھوں پر رکھیں تو وہ ہمیں ایک ایسے معاملے تک لے گئیں جسے ہم جانتے تھے، مگر اس معاملے میں ایسی صاف بات نہیں۔ اس حدیث کا سبق یہ ہے کہ دین کے معاملے میں اپنی رائے کو نبی صلى الله عليه وسلم کے حکم سے اوپر نہیں رکھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دین کے معاملے میں اپنی رائے کو پرکھتے رہنا چاہیے۔
  • صحابہ کو حدیبیہ کی صلح بھاری لگی، مگر حکم پر رکے۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حکم کو اپنی پسند پر مقدم رکھا گیا۔
  • جذبات کے وقت بھی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں