صحیح مسلم حدیث ۴۶۳۵ - دین میں اپنی رائے کو الزام دینا
دین میں رائے کی احتیاط: سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی نصیحت
صحیح مسلم : ۴۶۳۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۳۵
وحَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ جَمِيعًا ، عَنْ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا إِلَى أَمْرٍ يُفْظِعُنَا .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۶۳۵ کا خلاصہ
یہ روایت بھی سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی اسی نصیحت کو بیان کرتی ہے جو صفین کے دن کہی گئی۔ انہوں نے لوگوں کو حدیبیہ کے دن ابو جندل کا واقعہ یاد دلایا۔ ان کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کو بھی بعض وقت ایک حکم ظاہری طور پر سخت لگ سکتا تھا، مگر وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حکم کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ اس روایت میں یہ بات بھی آئی کہ پہلے معاملات میں تلواریں انہیں ایک ایسی بات کی طرف لے جاتی تھیں جسے وہ پہچانتے تھے، مگر اس معاملے نے انہیں سخت پریشان کیا۔ اس لیے یہ حدیث اپنی رائے پر احتیاط کی حدیث ہے۔ انسان کو ہر وقت یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ میری سمجھ ہی درست ہے، خاص طور پر جب معاملہ دین اور امت کے بڑے فیصلوں کا ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اپنی سمجھ کو ہمیشہ آخری فیصلہ نہ سمجھا جائے۔
- صحابہ نے حدیبیہ کے مشکل موقع کو یاد رکھا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے حکم کے سامنے ذاتی رائے روکی گئی۔
- مشکل دینی معاملات میں احتیاط اور صبر ضروری ہے۔
