صحیح مسلم حدیث ۴۶۳۶ - دین کے معاملے میں رائے کی کمزوری
اپنی رائے کو دین پر مت چڑھاؤ: حدیبیہ کا سبق
صحیح مسلم : ۴۶۳۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۳۶
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ بِصِفِّينَ ، يَقُولُ : " اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا فَتَحْنَا مِنْهُ فِي خُصْمٍ إِلَّا انْفَجَرَ عَلَيْنَا مِنْهُ خُصْمٌ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ سہل نے کہا: تمہاری رائے ایسی ہے کہ جب ایک کونہ اس میں ہم کھولیں تو دوسرا کونہ کھل جاتا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۶۳۶ کا خلاصہ
اس روایت میں سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کا جملہ اور بھی صاف انداز میں آیا ہے کہ اپنے دین کے معاملے میں اپنی رائے کو الزام دو۔ انہوں نے ابو جندل کے دن کا ذکر کیا، یعنی حدیبیہ کا وہ موقع جب صحابہ کے دلوں پر صلح بھاری تھی۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حکم کو لوٹا سکتے تو لوٹا دیتے، یعنی وہ معاملہ ان کی طبیعت پر بہت سخت تھا۔ پھر انہوں نے اپنی موجودہ صورت حال کے بارے میں کہا کہ تمہاری رائے کا ایک کونا کھولو تو دوسرا کونا کھل جاتا ہے۔ یہ بات انسان کو سمجھاتی ہے کہ ہر دینی یا اجتماعی معاملہ فوری طور پر سادہ نہیں ہوتا۔ اپنی رائے کو قابو میں رکھنا، نبی صلى الله عليه وسلم کے حکم کو مقدم سمجھنا اور جلد بازی سے بچنا اس حدیث کا اصل پیغام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کے معاملے میں ذاتی رائے کو قابو میں رکھنا چاہیے۔
- حدیبیہ کا واقعہ صحابہ کے لیے بڑا امتحان تھا۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حکم کو بدلنے کی خواہش بھی عمل میں نہیں لائی گئی۔
- پیچیدہ معاملات میں جلد فیصلہ کرنے سے بچنا چاہیے۔
