صحیح مسلم حدیث ۴۶۴ - سب سے کم درجے کا جنتی
سب سے کم درجے کا جنتی اور اللہ کی بڑی نعمت
صحیح مسلم : ۴۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۴
حَدّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً ، رَجُلٌ صَرَفَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنَ النَّارِ قِبَلَ الْجَنَّةِ ، وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ ، قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، أَكُونُ فِي ظِلِّهَا " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ ، فَيَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا يَصْرِينِي مِنْكَ ، إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ ، وَيُذَكِّرُهُ اللَّهُ : سَلْ كَذَا وَكَذَا ، فَإِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الأَمَانِيُّ ، قَالَ اللَّهُ : هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ ، قَالَ : ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ ، فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ، فَتَقُولَانِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ ، قَالَ : فَيَقُولُ : مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِيتُ .
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے کم درجے کا جنتی وہ ہے جس کا منہ اللہ تعالیٰ جہنم کی طرف سے پھیر کر جنت کی طرف کر دے گا اور اس کو ایک درخت دکھا دے گا۔ سایہ دار وہ کہے گا: اے رب میرے! مجھے اس درخت کے پاس لے جا میں اس کے سایہ میں رہوں گا۔“ اور بیان کیا حدیث کو اسی طرح جيسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ مگر اس میں یہ نہیں ہے کہ ”اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! تیرے سوال کو کون سی چیز تمام کرے گی“ آخر تک۔اتنا زیادہ ہے کہ ”اللہ تعالیٰ اس کو یاد دلائے گا فلاں فلاں چیز کی آرزو کر یہاں تک کہ جب اس کی سب آرزوئیں ختم ہو جائیں گی، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ تو یہ سب لے اور دس حصے ان سے زیادہ لے پھر وہ اپنے گھر میں جائے گا اور حوروں میں سے دونوں بیبیاں اس کے پاس آئیں گی اور کہیں گی: شکر اللہ کا جس نے تجھ کو جلایا ہمارے لئے اور ہم کو جلایا تیرے لئے پھر وہ کہے گا: کسی کو اللہ نے اتنا زیادہ نہیں دیا جتنا مجھ کو دیا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سب سے کم درجے کے جنتی کا حال بیان کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کا رخ جہنم کی طرف سے پھیر کر جنت کی طرف کر دے گا۔ اسے ایک سایہ دار درخت دکھایا جائے گا۔ وہ درخواست کرے گا کہ اسے اس درخت کے قریب کر دیا جائے تاکہ وہ اس کے سائے میں رہے۔ اس روایت میں اسی مضمون کو بیان کیا گیا ہے جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں آیا، مگر یہاں ایک اضافہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے مختلف آرزوئیں یاد دلائے گا، یہاں تک کہ جب اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اسے وہ سب اور اس کے دس گنا عطا کیے جائیں گے۔ یہ حدیث جنت کی وسعت اور اللہ کے فضل کو صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ تعالیٰ جہنم کی طرف سے رخ پھیر کر جنت کی طرف کر سکتا ہے۔
- جنت کی نعمتیں انسان کی آرزو سے بھی بڑھ کر ہوں گی۔
- سب سے کم درجے کا جنتی بھی محروم نہیں ہو گا۔
- آخرت میں اللہ کی عطا بندے کو حیران کر دے گی۔
