حدیث ۴۶۳

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۳

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ ، فَهْوَ يَمْشِي مَرَّةً ، وَيَكْبُو مَرَّةً ، وَتَسْفَعُهُ النَّارُ مَرَّةً ، فَإِذَا مَا جَاوَزَهَا الْتَفَتَ إِلَيْهَا ، فَقَالَ : تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْكِ ، لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ ، فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، فَلِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا ، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَا ابْنَ آدَمَ ، لَعَلِّي إِنَّ أَعْطَيْتُكَهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا ؟ فَيَقُولُ : لَا يَا رَبِّ ، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا ، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ ، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا ، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا ، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَى ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا ، وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا ، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا ، فَيَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا ؟ فَيَقُولُ : لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا ، فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا ، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ ، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْه ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا ، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا ، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَيَيْنِ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا ، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا ، فَيَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا ؟ قَالَ : بَلَى يَا رَبِّ ، هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا ، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ ، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهَا ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا ، فَإِذَا أَدْنَاهُ مِنْهَا فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِيهَا ؟ فَيَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا يَصْرِينِي مِنْكَ ، أَيُرْضِيكَ أَنْ أُعْطِيَكَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا ؟ قَالَ : يَا رَبِّ ، أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ " ، فَضَحِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ أَضْحَكُ ؟ فَقَالُوا : مِمَّ تَضْحَكُ ؟ قَالَ : هَكَذَا ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : مِنْ ضِحْكِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، حِينَ قَالَ : أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ ، فَيَقُولُ : إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ مِنْكَ ، وَلَكِنِّي عَلَى مَا أَشَاءُ قَادِرٌ .

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے آخر جو جنت میں جائے گا وہ ایک شخص ہوگا جو چلے گا پھر اوندھا گرے گا اور جہنم کی آگ اس کو جلاتی رہے گی جب دوزخ سے پار ہو جائے گا تو پیٹھ موڑ کر اس کو دیکھے گا اور کہے گا: بڑی برکت والا ہے وہ صاحب جس نے نجات دی مجھ کو تجھ سے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا دیا کہ ویسا کسی کو نہیں دیا، نہ اگلوں میں، نہ پچھلوں میں پھر اس کو ایک درخت دکھائی دے گا وہ کہے گا: اے رب! مجھ کو نزدیک کر دے اس درخت سے، میں اس کے نیچے سایہ میں رہوں اور اس کا پانی پیوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! اگر میں تیرا یہ سوال پورا کر دوں تو تو اور سوال کرے گا۔ وہ کہے گا۔ نہیں اے میرے رب! اور عہد کرے گا کہ پھر میں کوئی سوال نہ کروں گا۔ اور اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول کرے گا۔ اس لئے کہ وہ ایسی نعمت کو دیکھے گا جس پر اس سے صبر نہیں ہو سکتا (یعنی انسان بے صبر ہے وہ جب تکلیف میں مبتلا ہو اور عیش کی بات دیکھے تو بے اختیار اس کی خواہش کرتا ہے) آخر اللہ تعالیٰ اس کو اس درخت کے نزدیک کر دے گا۔ وہ اس کے سایہ میں رہے گا۔ اور وہاں کا پانی پئے گا۔ پھر اس کو ایک درخت دکھلائی دے گا جو اس سے بھی اچھا ہو گا وہ کہے گا: اے پروردگار! مجھ کو اس درخت کے نزدیک پہنچا دے تاکہ میں اس کا پانی پیوں اور میں اور کچھ سوال نہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! کیا تو نے عہد نہیں کیا تھا کہ میں پھر سوال نہ کروں گا۔ اور جو میں تجھے اس درخت تک پہنچا دوں تو پھر تو اور سوال کرے گا۔ وہ اقرار کرے گا کہ نہیں پھر میں اور کچھ سوال نہ کروں گا۔ اور اللہ تعالیٰ اس کو معذور رکھے گا اس لئے کہ اس کو صبر نہیں اس نعمت پر جو دیکھتا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ اس کو اس درخت کے نزدیک کر دے گا۔ وہ اس کے سائے میں رہے گا اور وہ وہاں کا پانی پئے گا۔ پھر اس کو ایک درخت دکھائی دے گا جو جنت کے دروازے پر ہو گا اور وہ پہلے کے دونوں درختوں سے بہتر ہو گا۔ وہ کہے گا: اے رب میرے! مجھ کو اس درخت کے پاس پہنچا دے تاکہ میں اس کے سایہ تلے رہوں اور وہاں کا پانی پیوں۔ اب میں اور کچھ سوال نہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! کیا تو اقرار نہیں کر چکا تھا کہ اب میں اور کچھ سوال نہ کروں گا۔ وہ کہے گا: بے شک میں اقرار کر چکا تھا۔ لیکن اب میرا یہ سوال پورا کر دے پھر میں اور کچھ سوال نہ کروں گا۔ اور اللہ تعالیٰ اس کو معذور رکھے گا۔ اس لئے کہ وہ دیکھے گا، ان نعمتوں کو جن پر صبر نہیں کر سکتا۔ آخر اللہ تعالیٰ اس کو اس درخت کے پاس کر دے گا۔ جب وہ اس درخت کے پاس جائے گا۔ تو جنت والوں کی آوازیں سنے گا اور کہے گا: اے رب میرے! مجھ کو جنت کے اندر پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! تیرے سوال کو کون سي چیز تمام کرے گی (یعنی تیری خواہش کب موقوف ہون گی اور یہ بار بار سوال کرنا کیوں کر بند ہو گا) بھلا تو اس پر راضی ہے کہ میں تجھے ساری دنیا کے برابر دوں اور اتنا ہی اور دوں، وہ کہے گا اے رب میرے! تو مجھ سے ٹھٹھا کرتا ہے، سارے جہان کا مالک ہو کر۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہنسنے لگے اور لوگوں سے کہا تم پوچھتے نہیں مجھ سے میں کیوں ہنستا ہوں؟ لوگوں نے پوچھا: کیوں ہنستے ہيں آپ؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح (اس حدیث کو بیان کر کے) ہنسے تھے۔ لوگوں نے پوچھا: آپ کیوں ہنستے ہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رب العالمین کے ہنسنے سے میں بھی ہنستا ہوں، جب وہ بندہ یہ کہے گا کہ تو مجھ سے ٹھٹھا کرتا ہے سارے جہان کا مالک ہو کر پروردگار ہنس دے گا۔ (اس کی نادانی اور بے وقوفی پر) اور فرمائے گا میں ٹھٹھا نہیں کرتا (ٹھٹھا اور مذاق میرے لائق نہیں وہ بندوں کے لائق ہے) بلکہ میں جو چاہتا ہوں کر سکتا ہوں۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں