صحیح مسلم حدیث ۴۶۵۲ - قریش کے چھ افراد پر دعا
کعبہ کی طرف رخ کر کے قریش کے خلاف دعا
صحیح مسلم : ۴۶۵۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۵۲
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ ، فَدَعَا عَلَى سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ ، وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَعُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ ، فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى عَلَى بَدْرٍ قَدْ غَيَّرَتْهُمُ الشَّمْسُ وَكَانَ يَوْمًا حَارًّا " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی طرف منہ کیا اور بددعا کی قریش کے چھ آدمیوں کے لیے ابوجہل اور امیہ بن خلف اور عتبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط کے لیے پھر عبدللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی کہ میں نے ان لوگوں کو دیکھا بدر میں پڑے ہوئے، اور دھوپ سے سڑ گئے تھے کیوں کہ وہ گرمی کا دن تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۶۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کعبہ کی طرف رخ کیا اور قریش کے چھ افراد کے خلاف دعا کی۔ ان میں ابو جہل، امیہ بن خلف، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط کے نام آئے۔ پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ انہوں نے ان لوگوں کو بدر میں پڑا ہوا دیکھا، اور گرمی کے دن دھوپ نے ان کے جسموں کو بدل دیا تھا۔ یہ روایت قریش کی اذیت، نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا اور بدر کے انجام کو بیان کرتی ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم پر ظلم کرنے والے لوگ اپنے ظلم کو ہنسی میں اڑا رہے تھے، مگر ان کا انجام روایت میں بیان ہوا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ظلم کرنے والوں کے خلاف اللہ سے دعا کی۔
- سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بدر میں ان کا انجام خود دیکھا۔
- ظلم کو مذاق سمجھنا انسان کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
- دعا کا تعلق اللہ کے فیصلے سے ہے، انسان اپنے اختیار سے کچھ نہیں کر سکتا۔
