صحیح مسلم حدیث ۴۶۵۰ - سجدے میں اذیت کا واقعہ

سجدے میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو اذیت اور بدر کا انجام

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۵۰

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، إِذْ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَا جَزُورٍ فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ ، فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَخَذَتْهُ عَنْ ظَهْرِهِ وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ ، أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ ، وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ ، وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ ، وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ ، أَوْ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ شُعْبَةُ الشَّاكُّ ، قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ ، فَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ ، غَيْرَ أَنَّ أُمَيَّةَ أَوْ أُبَيًّا تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ " ،

‏‏‏‏ امیہ بن خلف یا ابی بن خلف کو (شعبہ جو راوی ہے اس حدیث کا اس کو شک ہے) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں نے ان سب لوگوں کو دیکھا، مارے گئے بدر کے دن اور کنوئیں میں پھینک دیئے گئے مگر امیہ یا اُبی اس کے ٹکڑے ٹکڑے الگ ہو گئے تھے اس لیے وہ کنویں میں نہیں ڈالا گیا۔

صحیح مسلم حدیث ۴۶۵۰ کا خلاصہ

اس روایت میں وہی واقعہ مختصر انداز میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سجدے میں تھے اور قریش کے لوگ آس پاس تھے۔ عقبہ بن ابی معیط اونٹنی کا بچہ دان لایا اور اسے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی پیٹھ پر ڈال دیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے سر نہیں اٹھایا، یہاں تک کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں، اسے ہٹایا اور ایسا کرنے والوں کے خلاف دعا کی۔ پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے قریش کے بڑے لوگوں کے نام لے کر دعا فرمائی۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ان لوگوں کو بدر کے دن مقتول دیکھا اور کنویں میں ڈالا گیا، البتہ ایک کے بارے میں راوی کو شک ہے کہ وہ امیہ تھا یا ابی۔ یہ حدیث ظلم، صبر، دعا اور انجام کی یاد دلاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سخت اذیت کے باوجود سجدہ فوراً نہیں توڑا۔
  • سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد صلى الله عليه وسلم کی تکلیف دور کی۔
  • ظلم کرنے والوں کے انجام کا ذکر روایت میں صاف آیا ہے۔
  • دعا مظلوم کے لیے ایک مضبوط سہارا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں