صحیح مسلم حدیث ۴۶۵۱ - تین بار دعا کا بیان
اللهم عليك بقريش: تین بار دعا کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۶۵۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۵۱
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَزَادَ وَكَانَ يَسْتَحِبُّ ثَلَاثًا ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ " ثَلَاثًا ، وَذَكَرَ فِيهِمْ الْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ وَلَمْ يَشُكَّ ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : وَنَسِيتُ السَّابِعَ .
ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین بار دعا کر رہے تھے عاجزی سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”یا اللہ! سمجھ لے قریش سے۔ یا اللہ! تو سمجھ لے قریش سے۔ یا اللہ! تو سمجھ لے قریش سے۔“ اور ولید بن عتبہ کا نام ہے بجائے ولید بن عقبہ کے اور امیہ بن خلف کے نام میں شک نہیں ابواسحاق نے کہا: ساتویں آدمی کا میں نام بھول گیا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۶۵۱ کا خلاصہ
یہ روایت کعبہ کے پاس پیش آنے والے اسی واقعے کی ایک اور تفصیل ہے۔ اس میں خاص طور پر یہ بات آئی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم تین بار دعا کو پسند فرماتے تھے اور آپ صلى الله عليه وسلم نے عاجزی کے ساتھ فرمایا: اے اللہ! قریش کو پکڑ، اے اللہ! قریش کو پکڑ، اے اللہ! قریش کو پکڑ۔ روایت میں ناموں کے بیان میں ولید بن عتبہ کا ذکر آیا ہے اور امیہ بن خلف کے نام میں شک نہیں رکھا گیا۔ راوی نے یہ بھی کہا کہ ساتویں آدمی کا نام بھول گیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع مظلوم کی دعا، دعا میں تکرار اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو دی گئی اذیت ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ تکلیف کے وقت اللہ کی طرف رجوع کیا گیا، اور دعا کو پوری سنجیدگی سے کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کبھی دعا کو تین بار دہراتے تھے۔
- شدید اذیت کے بعد بھی آپ صلى الله عليه وسلم نے معاملہ اللہ کے سپرد کیا۔
- راوی نے جہاں نام بھولا، وہاں صاف بتا دیا؛ یہ روایت کی امانت ہے۔
- ظلم کے وقت مظلوم کی دعا معمولی بات نہیں ہوتی۔
