صحیح مسلم حدیث ۴۶۶ - کم درجے کے جنتی کا سوال
کم حصے والے جنتی کے بارے میں موسیٰ علیہ السلام کا سوال
صحیح مسلم : ۴۶۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۶
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلّ عَنْ أَخَسِّ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنْهَا حَظًّا ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ .
مغیرہ بن شعبہ روایت:
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ منبر پر کہتے تھے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا: سب سے کم درجے کا جنتی کون ہے؟ پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح جیسے اوپر گزری۔
صحیح مسلم حدیث ۴۶۶ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو مختصر انداز میں بیان کرتی ہے۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ منبر پر بیان کرتے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا کہ جنت میں سب سے کم حصہ پانے والا کون ہو گا۔ پھر راوی نے بتایا کہ حدیث اسی طرح بیان ہوئی جیسے اوپر گزری۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کے درجات کا مضمون صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان بیان کیا جاتا تھا اور لوگ اسے سنتے تھے۔ چونکہ اس روایت میں تفصیل دوبارہ نہیں لائی گئی، اس لیے اصل بات یہی ہے کہ جنت میں کم درجے والے شخص کا بھی حصہ معمولی نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے بڑا عطیہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنت کے کم درجے کے بارے میں بھی نص میں بیان آیا ہے۔
- کبھی ایک ہی حدیث مختصر سند اور اشارے کے ساتھ بھی نقل ہوتی ہے۔
- موسیٰ علیہ السلام کا سوال جنت کے درجات کی حقیقت سے متعلق تھا۔
- جنت کا کم حصہ بھی اللہ کی بڑی نعمت ہے۔
