صحیح مسلم حدیث ۴۶۷ - گناہوں کا نیکیوں سے بدلنا

گناہوں کے بدلے نیکیاں: آخری جنتی کی حیرت انگیز حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۷

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ ، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا ، رَجُلٌ يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُقَالُ : اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ ، وَارْفَعُوا عَنْهُ كِبَارَهَا ، فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ صِغَارُ ذُنُوبِهِ ، فَيُقَالُ : عَمِلْتَ يَوْمَ ، كَذَا ، وَكَذَا ، كَذَا ، وَكَذَا ، وَعَمِلْتَ يَوْمَ ، كَذَا ، وَكَذَا ، كَذَا ، وَكَذَا ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ ، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُنْكِرَ ، وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ كِبَارِ ذُنُوبِهِ أَنْ تُعْرَضَ عَلَيْهِ ، فَيُقَالُ لَهُ : فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً ، فَيَقُولُ : رَبِّ قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَا أَرَاهَا هَا هُنَا " ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ ، حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ.

ابوذر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جانتا ہوں اس شخص کو جو سب کے بعد جنت میں جائے گا اور سب کے بعد دوزخ سے نکلے گا۔ وہ ایک شخص ہو گا جو لایا جائے گا قیامت کے دن۔ پھر حکم ہو گا پیش کرو اس کے ہلکے گناہ اور مت پیش کرو اس کے بھاری گناہ تو پیش کئے جائیں گے اس پر ہلکے گناہ، اس کے اور کہا جائے گا: فلاں روز تو نے ایسا کام کیا۔ اور فلاں روز یہ کام کیا، وہ قبول کرے گا۔ انکار نہ کر سکے گا اور ڈرے گا اپنے بھاری گناہوں سے۔ کہیں وہ پیش نہ ہوں۔حکم ہو گا ہم نے تجھے ہر ایک گناہ کے بدلے ایک نیکی دی۔ وہ کہے گا: مالک میرے! میں نے اور بھی کچھ کام کئے ہیں گناہ کے۔ جن کو میں یہاں نہیں پاتا۔“ راوی نے کہا: میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں کھل گئیں۔

صحیح مسلم حدیث ۴۶۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک ایسے شخص کا ذکر ہے جو سب سے آخر میں جنت میں داخل ہو گا اور سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا۔ قیامت کے دن اسے لایا جائے گا۔ حکم ہو گا کہ اس کے چھوٹے گناہ پیش کیے جائیں اور بڑے گناہ نہ دکھائے جائیں۔ جب اس سے پوچھا جائے گا کہ فلاں دن تم نے یہ کیا، فلاں دن یہ کیا، تو وہ انکار نہیں کر سکے گا۔ وہ اپنے بڑے گناہوں کے سامنے آنے سے ڈر رہا ہو گا۔ پھر اسے کہا جائے گا کہ تیرے ہر گناہ کے بدلے ایک نیکی ہے۔ اس وقت وہ کہے گا کہ میرے کچھ اور کام بھی ہیں جو یہاں نظر نہیں آ رہے۔ یہ بات سن کر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ہنسے۔ حدیث میں اللہ کی خاص عطا اور بندے کی حیرت کا بیان ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیامت کے دن انسان اپنے اعمال کا انکار نہیں کر سکے گا۔
  • بندہ اپنے بڑے گناہوں کے سامنے آنے سے ڈرے گا۔
  • اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے گناہوں کے بدلے نیکیاں عطا فرمائے۔
  • آخرت کا معاملہ اللہ کے فضل اور عدل کے تحت ہو گا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں